جی او 111 کو برخواست کرنے کے اقدامات : کے سی آر

   

حیدرآباد میں پینے کے پانی کا مسئلہ 100 سال کیلئے حل کرنے کا ادعا
حیدرآباد۔15مارچ(سیاست نیوز) حکومت جلد ہی جی او 111 کو برخواست کرنے کے اقدامات کرے گی ۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے آخری دن تصرف بل پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی ۔انہوں نے جی او 111کے متعلق کہا کہ 1996 میں عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے تحفظ کیلئے جاری اس جی او کو برقرار رکھا جانا درست نہیں ہے۔کے سی آر نے کہا کہ اس وقت حکومت نے شہر کو پینے کا پانی سربراہ کرنے والے دو بڑے ذخائر آب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے تحفظ کیلئے یہ جی او جاری کرکے اطراف کے 83 مواضعات میں صنعتی و تعمیری سرگرمیوں پر روک لگائی تھی لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے سنکی شالہ اور ملنا ساگر جیسے پراجکٹس کے ذریعہ شہر میں پینے کے پانی کے مسائل کو آئندہ 100 سال کیلئے حل کرلیا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ پینے کے پانی کے مسائل کے حل کے بعد 83 مواضعات کو ترقی سے محروم رکھنا درست نہیں ہے اسی لئے حکومت جلد ہی جی او 111 کو برخواست کرے گی۔ انہو ںنے وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کو ہدایات دی کہ وہ اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس منعقد کرکے صورتحال کا جائزہ لیں اور ان مواضعات میں گرے۔ زونس کی تشکیل کے ذریعہ جی او 111 کی برخواستگی کو یقینی بنائیں ۔انہو ںنے بتایا کہ جی اور کی برخواستگی سے 83 مواضعات میں موجود 1لاکھ 32ہزار ایکڑ اراضیات کو فائدہ پہنچے گا۔چیف منسٹر نے بتایا کہ اس مسئلہ پر ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی مذکورہ کمیٹی حکومت کو رپورٹ پیش کریگی گی اس کے بعد ریاستی حکومت جی او 111 کی برخواستگی کی سمت پیشرفت کرے گی۔م