حمایت ساگر اور عثمان ساگر ذخائر آب کو نقصان، آبگیر علاقہ میں تعمیری سرگرمیوں کی مخالفت
حیدرآباد ۔یکم جون (سیاست نیوز) ماحولیات اور آبی ذخائر کے تحفظ سے متعلق جہد کاروں نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے جی او 111 کی برخواستگی کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ماحولیات کے جہد کار راجندر سنگھ نے حکومت کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ذخائر آب کے تحفظ کے اقدامات نہیں کئے گئے تو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔ ماحولیات سے متعلق مختلف تنظیموں نے جی او 111 کی بحالی کے لئے مشترکہ مہم کی تیاری کرلی ہے۔ راجندر سنگھ نے کہا کہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے آبگیر علاقہ میں موجود 84 دیہاتوں کو جی او 111 سے تحفظ حاصل تھا۔ تعمیری کاموں کی اجازت کے نتیجہ میں نہ صرف ذخائر آب کو نقصان ہوگا بلکہ آبگیر علاقہ میں تعمیری کاموں کے نتیجہ میں سیلاب کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ مافیا کے دباؤ میں تلنگانہ حکومت نے ایک غیر ذمہ دارانہ فیصلہ کیا ہے جس کا اثر نہ صرف اطراف کے دیہاتوں بلکہ حیدرآباد کی آبادی پر پڑے گا۔ جی او 111 کی اجرائی 27 سال قبل محض عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے تحفظ کے مقصد سے عمل میں آئی تھی۔ دونوں ذخائر آب سے حیدرآباد کو پانی سربراہ کیا جاتا ہے ۔ آبگیر علاقہ میں تعمیرات کے نتیجہ میں ذخائر آب سوکھنے کا اندیشہ رہے گا جس کے بعد ذخائر آب کی اراضی پر محفوظ نہیں رہے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کو کرشنا اور گوداوری سے سربراہی آب کا آغاز ہوچکا ہے ، لہذا قدیم ذخائر آب پر اکتفاء کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ راجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ جی او 111 کی برخواستگی دراصل ذخائر آب کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے ۔ انہوں نے ذخائر آب کو کالیشورم سے جوڑنے کے حکومت کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ آئندہ 100 برسوں میں بھی کالیشورم سے شہر کے ذخائر آب کو پانی کی منتقلی ممکن نہیں ہے۔ اسی دوران حیدرآباد سوشیل میڈیا فورم نے جی او 111 کی برخواستگی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جی او 111 کی برخواستگی سے نہ صرف حیدرآباد بلکہ تلنگانہ کے عوام پر اثر پڑے گا۔ر