جی او 111 کی منسوخی سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی : ماہر

   

حیدرآباد ۔ 25 ستمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کی پیپلز سائنٹفک کمیٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے تحفظ کیلئے جاری کیا گیا جی او 111 کو برخاست کرنے کی کوشش سپریم کورٹ کے حکم کی تحقیر ہے۔ واضح رہیکہ سپریم کورٹ نے 2000 میں ان جھیلوں کے تحفظ کو برقرار رکھا تھا۔ اس مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کمیٹی کے نمائندے ساگردھارا نے کہا کہ ’’حکومت تلنگانہ یہ کرسکتی ہیکہ محفوظ علاقہ میں تمام سرگرمیاں سپریم کورٹ کے حکم کی مطابقت میں ہوں۔ جی او 111 کے علاقہ میں سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی قائم کی جانی چاہئے اور سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف ورزی میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے‘‘۔ دھارا نے مزید کہا کہ ’’پابندیوں کو برخاست کردینے سے حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے 10 کیلو میٹر نصف قطر کے اندر تمام قسم کی انڈسٹریز کے قیام کی اجازت ہوگی۔ اس سے جھیلیں آلودگی کا شکار ہوجائیں گی اور سینئر سٹیزنس کیلئے صحت کے خطرات لاحق ہوں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو یکو سسٹم سرویسیس پر توجہ مرکوز کرتا ہے، کونسا پانی ہمیں فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ بات تشویشناک ہیکہ ذخائر آب کو اراضی کے جیسا دیکھا جارہا ہے۔ بنیادی طور پر اسے پانی پر مشتمل زمین سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں نے اس کی نوعیت کو نہیں سمجھا ہے جوکہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ عالمی سطح پر اس طرح کے مسئلہ کو یکو سائیڈ (نسل کشی جیسا) کہا جاتا ہے۔ ’’جی او111 کو منسوخ کردیا گیا تو گرمی کی شدت ہوگی جس کی وجہ 60 سال سے زیادہ عمر والوں کی بڑی تعداد میں موت ہوگی۔ اس جی او کو منسوخ کرنے کی کوشش نئی نہیں ہے۔ سابق حکومتوں نے بھی اس جی او کو برخاست کرنے کی کوشش کی تھی۔ دراصل سابق حکومتوں نے حسین ساگر جھیل کو بھرنے اور زمین کو فروخت کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ پلان ان دو جھیلوں کو مٹادینے کیلئے ہے اور ان کے اطراف زمین کو ڈیولپ کرکے دہلی فارم ہاؤز ایریا جیسی کوئی چیز بنانا ہے تاکہ دولتمندوں کیلئے اسے خصوصی علاقہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آنے والے وقت میں پانی کی قلت ہوگی اور اس کی وجہ لڑائی جھگڑا ہوگا جو کاویری ندی سے متعلق کرناٹک ۔ ٹاملناڈو تنازعہ اور مہادیئی ندی سے متعلق کرناٹک۔ گوا تنازعہ سے ظاہر ہے۔