حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں جاری کئے گئے جی او 33 کے خلاف بھارتیہ جنتا مقننہ پارٹی نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے اسے قانون کی خلاف ورزی قراردیا۔قائد ایوان مقننہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسٹر اے مہیشور ریڈی نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ایک درخواست میں بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اندراماں اندلو کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کے لئے اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں جاری کئے گئے جی او کو چیالنج کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کلکٹرس اور انچارج وزراء کے ذریعہ اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ میں جاری کیا گیا جی او 33 دستور کی دفع 243 کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ پنچایت راج قوانین کی شق 6 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔انہوں نے اپنے وکیل اے اینما سیٹی کے توسط میں داخل کی گئی اس درخواست میں اس جی او کو چیالنج کیا ہے جو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کیاگیا ہے۔مسٹر اے مہیشور ریڈی کے وکیل نے عدالت میں داخل کی گئی درخواست پر مباحث کے دوران عدالت کو اس جی او کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے اسے سماعت کے لئے قبول کرنے کے خواہش کی عدالت نے ان کی درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ مقدمہ کی آئندہ سماعت 28 اکٹوبر کو منعقد کی جائے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے اندراماں اندلو کے استفادہ کنندگان کے لئے اندراماں کمیٹیوں کی تشکیل کے سلسلہ جاری کئے گئے اس جی او پر مختلف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اعتراض کرتے ہوئے اس میں ترمیم یا اس جی او سے دستبرداری کا مطالبہ کیا جا رہاتھا لیکن حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت نہ ہونے کے نتیجہ میں اب یہ مسئلہ عدالت میں پہنچ چکا ہے۔3