جی ایس ٹی اصلاحات پر عمل آوری سے ریاستوں کو نقصان کا اندیشہ: بھٹی وکرمارکا

   

مرکزی حکومت نقصانات کی پابجائی کرے، نئی دہلی میں مختلف ریاستوں کے وزراء کے مشاورتی اجلاس میں شرکت

حیدرآباد 29 اگست (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے نئی دہلی میں مختلف ریاستوں کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جو جی ایس ٹی کی شرح کو آسان بنانے اور اصلاحات کے سلسلہ میں منعقد کیا گیا تھا ۔ کرناٹک حکومت نے اجلاس کا اہتمام کیا۔ بھٹی وکرمارکا نے جی ایس ٹی اصلاحات اور عوام کو ٹیکس کے بوجھ سے راحت دینے 15 مختلف نکات پیش کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتیں جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کے اقدامات میں مرکزی حکومت سے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ تاہم حکومت کو فلاحی اسکیمات کو متاثر ہوئے بغیر عمل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کی حصہ داری میں کمی سے ریاستوں کی فلاحی اسکیمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ہمہ پارٹی پارلیمانی جمہوریت میں باہمی تعاون کے ساتھ وفاقی نظام پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ مرکزی حکومت کو جی ایس ٹی اصلاحات کے اعلان سے قبل ریاستوں سے مشاورت کرنی چاہئے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ ایک نئی ریاست ہے اور اس کی ضروریات بھی زیادہ ہیں۔ کئی دہوں تک جدوجہد کے بعد علحدہ ریاست حاصل کی گئی۔ ریاست کی ترقی کیلئے فنڈس لازمی ہیں اور اور مرکز کو ایک شفاف ٹیکس سسٹم تیار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاستوں کو نقصانات کی پابجائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں تلنگانہ کو محض 10 فیصد حصہ داری حاصل ہوئی ہے جبکہ سابق میں ویاٹ کے تحت 18 فیصد کی حصہ داری تھی ۔ تلنگانہ کی ٹیکس سے مجموعی آمدنی پر 39 فیصد جی ایس ٹی حاصل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے نتیجہ میں تلنگانہ کو 5100 کروڑ کے نقصان کا اندازہ ہے اور جی ایس ٹی آمدنی 15 فیصد گھٹ جائے گی۔ تلنگانہ میں 80 فیصد سے زائد آمدنی فلاحی اسکیمات پر خرچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاستوں کی اسکیمات کو متاثر کئے بغیر اصلاحات پر عمل کرنا چاہئے۔ اجلاس میں کرناٹک کے وزیر مال کرشنا بیرے گوڑہ ، پنجاب کے وزیر فینانس ہرپال سنگھ ، کیرالا کے وزیر فینانس کے این بالا گوپال ، جھارکھنڈ کے وزیر فینانس رادھا کرشنا کشور ، ٹاملناڈو وزیر فینانس تھنگم تھناراسو ، ہماچل پردیش کے وزیر تعلیم راجیش دھرمانی اور مغربی بنگال کے ریسیڈنٹ کمشنر اجین دتا نے شرکت کی۔1