جی ایس ٹی: سجاد لون کا اسمبلی سے واک آئوٹ

   

جموں: پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون نے منگل کے روز اسمبلی سے اس وقت واک آئوٹ کیا جب حکومت نے اسمبلی میں ’گڈز اینڈ سروس ٹیکس‘ (ترمیمی) بل 2025 پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کا مقصد جے اور کے ریاست کے بجائے کے یو ٹی کا لفظ شامل کرنا تھا۔ واک آئوٹ کے بعد موصوف نے ’ایکس‘ پر اپنے ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ آج میں نے اسمبلی سے واک آئوٹ کیا جب حکومت نے ’گڈز اینڈ سروسز ایکٹ‘ کے سیکشن 2 میں ترمیم کے لئے بل پیش کیا، اس بل کا مقصد جے اور کے ریاست کے بجائے کے یو ٹی کا لفظ شامل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس بل کی منظوری جموں و کشمیر کی یونین ٹریٹری کی حیثیت کی توثیق کے مترادف ہے ، میں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن جموں و کشمیر کے لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اس کے پیش نظر میری آواز سنائی نہیں دی جس کے بعد میں نے واک آئوٹ کیا۔ ان کا سوالیہ انداز میں کہنا ہے کہ کیا انہوں نے اسمبلی سے پوچھا کہ دفعہ 370 کو کب ختم کیا گیا، کب دفعہ 35 اے کو ختم کیا گیا تھا اور کب ریاست جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری میں شامل کیا گیا تھا۔ سجاد لون نے اپنے پوسٹ میں کہا کہ یہ لوگ اب اسمبلی سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ وہ غیر فعال طور پر اس کی توثیق کرے جس کی بالآخر تاریخ جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری میں منتقل کرنے کے عمل کی فعال توثیق کے طور پر تعبیر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے کی پوری داستان 5 اگست 2019 کے تباہ کن واقعات کو ختم کرنے کے ارد گرد تھی اور ہمارا خیال یہ تھا کہ اسمبلی 5 اگست کے تمام اقدامات کو مسترد کرنے والی قراردادیں غیر واضح طور پر پاس کرے گی۔
ان کا کہنا ہے : ‘حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آج تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو واضح، جامع اور غیر مبہم طور پر منظور کی گئی ہو’۔
موصوف صدر نے کہا: ‘ قانون بنانے یا 5 اگست 2019 کے واقعات کو کالعدم کرنے کا اسمبلی کا اختیار اہم نہیں ہے اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اسمبلی سے عوام کی آواز کیا نکلتی ہے ‘
انہوں نے کہا: ‘ ہمیں اپنی رائے کا اظہار کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے اور جو آوازیں اٹھ رہی ہیں وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ انصاف نہیں کرتی ہیں’۔