جی ایس ٹی وصولی میں 40 ہزار کروڑ کی کمی کے اندیشے

   

خسارہ سے نمٹنے کے اقدامات پر غور ۔ ریاستوں کی آمدنی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں

حیدرآباد۔23ستمبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت جی ایس ٹی کی وصولی میں 40 ہزار کروڑ کی گراوٹ کا تخمینہ لگائے ہوئے ہے ہے اور کہا جا رہا ہے کہ قومی سطح پر معاشی کمزوری کے سبب جی ایس ٹی کی وصولی میں نمایاں کمی ہونے کے اندیشے ہیں۔ گذشتہ ہفتہ گوا میں جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے دوران مرکزی وزارت فینانس کے عہدیداروں نے ریاستی وزرائے فینانس سے ملاقات کے دوران یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ریاستوں سے اس مرتبہ جو جی ایس ٹی وصول ہوگا اس میں 40ہزار کروڑ کی کٹوتی ریکارڈ کی جائے گی۔ملک میں معاشی ترقی میں جو گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے ۔حکومت کی جانب سے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ حکومت نے جی ایس ٹی میں ریکارڈ کی جانے والی اس امکانی گراوٹ سے نمٹنے کیلئے راہیں تلاش کرنی شروع کردی ہیں۔جاریہ سال کے اوائل میں جی ڈی پی کی شرح میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومتوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ جی ایس ٹی میں ریاستوں کا بھی حصہ ہوتا ہے اور مرکز کے حصہ میںجب گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے تو ریاستوں کی آمدنی میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی جائیگی۔مرکز نے ریاستوں کو آئندہ پانچ برسوں کے دوران جی ایس ٹی کی آمدنی میں نقصانات کی پابجائی کا تیقن دیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ 5برسوں تک ریاستوں کو نقصان کی پابجائی کیلئے مختلف راہیں تلاش کی جانے لگی ہیںلیکن مرکز نے ساتھ میں یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ نقصان کی پابجائی اسی صورت میں کریگا جب سالانہ آمدنی میں 14 فیصد سے کم اضافہ ریکارڈ کیا جائے ۔مرکزی حکومت نے لگژری اشیا پر ایک سال کے دوران ایک لاکھ کروڑ کے جی ایس ٹی کی وصولی کا تخمینہ لگایا ہے اور کہا جار ہاہے کہ مالی سال 2019-20 کے دوران اس نشانہ کو عبور کرلیا جائیگا ۔ بتایاجاتا ہے کہ معاشی سال کی ابتدامیں ماہانہ 8000 کروڑ کے نشانہ کو یقینی بنایا جا رہاہے اور نشانہ کو پورا کئے جانے پر سالانہ نشانہ کی تکمیل بھی ممکن ہوسکے گی۔ جاریہ مالی سال کے دوران ماہ اگسٹ میں اس زمرہ میں جملہ 7 ہزار 272 کروڑ روپئے بطور جی ایس ٹی وصول کئے گئے ۔