جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے لیے کئی اہم فیصلے

   

نئی دہلی:وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی صدارت میں جی ایس ٹی کونسل کا اجلاس ہوا۔ اس دوران کئی بڑے فیصلے لیے گئے ہیں۔ جی ایس ٹی کونسل نے ہفتہ کو قوانین کی تعمیل میں بعض بے ضابطگیوں کو جرم کے زمرے سے باہر رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مقدمہ چلانے کی حد کو دوگنا کرکے 2 کروڑ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریونیو سکریٹری سنجے ملہوترا نے جی ایس ٹی کونسل کی 48ویں میٹنگ کے اختتام کے بعد ان فیصلوں کی جانکاری دی ہے۔ وزارت خزانہ نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کیا ہے تاہم، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل وقت کی کمی کی وجہ سے میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل 15 میں سے صرف آٹھ مسائل پر فیصلہ لے سکتی ہے۔ آج کی میٹنگ میں جی ایس ٹی پر اپیلٹ ٹریبونل بنانے کے علاوہ پان مسالہ اور گٹکے کے کاروبار میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے کوئی نظام بنانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد وزیر خزانہ نے کہا کہ کسی بھی شے پر کوئی نیا جی ایس ٹی نہیں لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل نے اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (SUV) کی درجہ بندی کے حوالے سے پوزیشن واضح کر دی ہے اور ایسی گاڑیوں پر لاگو ٹیکس کو بھی واضح کر دیا گیا ہے۔