جی ایس ٹی کی تدوین میں نقائص، ٹیکس کی وصولیات میں کمی

,

   

۔4000سے زائد ترمیمات کے بعد بھی کوتاہیاں موجود ، دوبارہ مرتب کرناضروری

بنگلورو ۔ 29 اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب کے وزیر خزانہ من پریت سنگھ بادل نے جمعرات کے روز بتایا کہ اشیاء اور خدمات سے متعلق ٹیکس ( جی ایس ٹی ) میں کئی نقائص پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے GST-2.0 کی مکمل طور پر تدوین نو اور اس کا مکمل جائزہ لینے کا مشورہ دیا ۔ کانگریس قائد امریندر سنگھ کی قیادت میں پنجاب میں قائم کانگریس کی حکومت میں شامل من پریت سنگھ بادل نے کہا کہ جی ایس ٹی نے مایوس کیا ۔ میرے خیال میں اس میں بعض کوتاہیاں پائی جاتی ہیں ۔ توقع یہ تھی کہ ایک بار مستقل جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں آجائے گا تو خام گھریلو پیداوار ( جی ڈی پی ) میں 2فیصد اضافہ ہوجائے گا ۔ ٹیکس کی وصولیات بھی بڑھ جائیں گی اور برآمدات بھی مسابقت کے قابل ہوجائیں گی اور جی ایس ٹی کی خانہ پُری بہت ہی آسان ہوگی ۔ مگر تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جی ڈی پی میں توقع کے مطابق اضافہ نہیں ہوا اور اس کے فارموں کی خانہ پُری اور ادخال بہت زیادہ کٹھن اور پیچیدہ ہوگیا ۔ بادل نے یہ باتیں ہندوستان صنعتوں کے وفاق ( سی آئی آئی ) کی8 ویں شمالی ہند کی سرمایہ کاری کی چوٹی کانفرنس میں بیان کیں ۔ اب جو جی ایس ٹی میں ترمیمات ہوئی ہیں، اس کے لحاظ سے اسے جی ایس ٹی کا دوسرا مرحلہ کہا جاسکتا ہے ۔ گذشتہ ڈھائی سال میں اس قانون میں 4 ہزار ترمیمات کی گئیں ۔ اگر آپ کسی مریض کا 4ہزار بار آٖریشن کرتے ہیں تو وہ کبھی صحت مند ہوسکے گا ۔ اس لئے میرے خیال میں جی ایس ٹی کی تدوین نو کی ضرورت ہے اور اگر میں غلطی نہیں کررہا ہوں تو گذشتہ دو سال میں محاصل سے جو رقومات حاصل ہوئی ہیں وہ اس سے دو سال قبل وصول کردہ رقومات سے اصل میں کم ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہندوستان کی معیشت کی شرح اگر 6یا 7 ہے تو ٹیکس کی وصولیات کم سے کم 4فیصد بڑھنی چاہیئے ۔ اگر وہ 6فیصد بڑھنے سے قاصر ہوں ۔