سیاسی جماعتوں اور حکومت کی بے حسی پر عوام میں برہمی ۔ خاموش احتجاج کا منصوبہ
حیدرآباد ۔ تعلیم یافتہ اور منظم رائے دہندوں کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد انتخابات کے دوران
NOTA
کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ کہا جار ہا ہے کہ شہر کی ان آبادیوں میں جہاں تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت ہے وہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں حق رائے دہی کے استعمال کے ذریعہ اپنااحتجاج درج کروانے کی تیاری کررہے ہیں کیونکہ حالیہ سیلاب اور بعد کی صورتحال کے خلاف سڑک پر نکل کر احتجاج کی صورت میں سیاسی غنڈہ گردی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران
NOTA
کے حق کا استعمال کرکے اپنا احتجاج درج کروانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ ٹولی چوکی اور شیخ پیٹ میں ووٹرس کی جانب سے اس اعلان کے بعد شہر کے کئی علاقوں میں جائزہ لیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ جی ایچ ایم سی میں کارپوریٹرس کے خلاف احتجاج کا بہترین طریقہ ان کے حق میں ووٹ کے بجائے
NOTA
کے حق میں ووٹ ڈالنا ہے ۔شیخ پیٹ ڈیویژن میں اس اعلان پر عوامی رائے حاصل کرنے کی کوشش پر انکشاف ہوا ہے کہ شہریوں کی جانب سے منظم انداز میں احتجاج درج کروانے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے ۔ جناب سید آصف حسین سہیل نے بتایا کہ شہر میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی نہ ہونے اور مسائل حل نہ کئے جانے سے غصہ کے اظہار سے بھی عوام خائف ہیں کیونکہ ان کے خلاف غنڈہ گردی کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں اسی لئے فیصلہ کیاگیا کہ برہمی کا اظہار کرنے
NOTA
کا استعمال کیا جائے ۔ ان سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ
NOTA
کے حق میں ووٹ کے استعمال کے باوجود وہی امیدوار کامیاب ہوگا جو
NOTA
کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کریگا تو انہو ںنے بتایا کہ ایسا کرنے کا مقصد شہریوں کی برہمی سے جماعتو ںاور حکومت اور بلدیہ کو واقف کروانا ہے ۔ ٹولی چوکی اور شیخ پیٹ علاقوں میں عوام کے اس اعلان کے بعد پرانے شہر کے بھی کئی علاقو ںمیں جہاں باشعور‘ قابل اور تعلیم یافتہ شہری ہیں
NOTA
کے استعمال کی منصوبہ بندی پر غور کیا جانے لگا ہے۔