کورونا وباء کے پیش نظر ہر پولنگ سنٹر پر صرف 800 ووٹوں کی گنجائش
حیدرآباد :۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کی تیاریوں کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی عملہ کو انتخابی عہدیداروں کی جانب سے تربیت فراہم کرنے کا آغاز ہوگیا ہے ۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے جی ایچ ایم سی کے انتخابات کا جائزہ لینے کے بعد عہدیداروں کی جانب سے تیاریوں میں اچانک تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ نئے ووٹوں کے اندراج ، انتخابی میٹریل کی تیاری ، ویب کاسٹنگ ، پولنگ ، ووٹوں کے گنتی کے مراکز کی نشاندہی کے علاوہ دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر جی ایچ ایم سی کے عہدیدار متواتر اجلاس طلب کرتے ہوئے مشاورت کررہے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر لوکیش کمار نے کل ہی اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انتخابی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد مختلف شعبوں کے سربراہوں میں علحدہ علحدہ ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کرتے ہوئے احکامات جاری کردئیے ۔ اس مرتبہ کورونا بحران کے ساتھ الکٹرانک ووٹنگ مشین اور وی وی پیاٹس کے حصولی میں پیش آنے والی دشواریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سمجھا جارہا ہے کہ بیالٹ پیپر کے ذریعہ ہی رائے دہی ہونے کے زیادہ امکانات ہیں ۔ موجودہ جی ایچ ایم سی کی میعاد آئندہ سال 10 فروری کو مکمل ہورہی ہے ۔ اس سے قبل انتخابات کرانا لازمی ہے ۔ اسٹیٹ الیکشن کمشنر پارتا سارتھی کی ہدایت پر کمشنر جی ایچ ایم سی نے انتخابی تیاریوں میں تیزی پیدا کردی ہے ۔ 2016 کے انتخابات میں 1200 ووٹرس پر ایک پولنگ بوتھ قائم کیا گیا تھا اس مرتبہ کورونا وباء کے پیش نظر ہر پولنگ پر 800 ووٹس کی گنجائش فراہم کرنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد یہ امید کی جارہی ہے کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 10 ہزار تک پولنگ مراکز قائم کئے جائیں گے ۔۔