جی ایچ ایم سی اور سرکاری ملکیت کے تحفظ کی حیڈرا کو ذمہ داری

   

تالابوں، کنٹوں، نالوں کا بھی تحفظ، محکمہ بلدی نظم و نسق سے جی او کی اجرائی

حیدرآباد۔16 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ بلدی نظم و نسق نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود جی ایچ ایم سی اور حکومت تلنگانہ کے اثاثہ جات کے تحفظ کی ذمہ داری ’حیڈرا‘ کے حوالہ کرنے کے احکام جاری کئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے بعد محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے جی او ایم ایس نمبر 191 کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم ونسق مسٹر دانا کشور نے جی او کی اجرائی کے ذریعہ کمشنر ’حیڈرا‘ کو جی ایچ ایم سی کے حدود میں موجود تالابوں‘ سڑکوں ‘ عوامی مقامات‘ پارکس‘ کھلی سرکاری اراضیات ‘ جو کہ جی ایچ ایم سی یا ریاستی حکومت کی ملکیت ہیں ان کو محفوظ کرنے کی مجاز قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ بلدی نظم ونسق کے جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق بلدی حدود میں ڈیزاسٹر ریسپانس کے علاوہ عوامی و سرکاری جائیدادوں اور ملکیت کے تحفظ کیلئے ’حیڈرا‘ مجاز ادارہ ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق جی ایچ ایم سی ایکٹ 374B کے نفاذ کے ذریعہ ’حیڈرا‘ کو یہ اختیارات فراہم کئے گئے ہیں اور ’حیڈرا‘ عوامی پارکس‘ سڑکوں‘ فٹ پاتھس ‘ کھلی اراضیات ‘ تالابوں کے علاوہ سڑکوں پر ہونے والے قبضہ جات کو برخواست کرنے کے مجاز ادارہ کے طور پر یہ ادارہ کام کرے گا۔سرکاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیڈرآباد کے حدود میں جو کہ ملک کی چنندہ بلدیات میں شمار کی جاتی ہے تو کہ رقبہ کے اعتبار سے بڑی ہیں اور جی ایچ ایم سی کا جملہ رقبہ 650 مربع کیلو میٹر ہے۔ اس اہم ترین بلدیہ کے حدود میں رہنے والے مکینوں کیلئے کھلی فضاء میں سانس لینے کی جگہ کی فراہمی اور موسمی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے اقدامات کے طور پر ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ شہری علاقوں میں عوامی مقامات بالخصوص پارکس ‘ سڑکوں اور دیگر اہم مقامات پر کئے جانے والے قبضہ جات کو روکنے کیلئے کئے گئے اس فیصلہ اور احکامات کی اجرائی کے بعد کہا جارہا ہے کہ جی ایچ ایم سی حدودمیں ’حیڈرا‘ اب تالابوں ‘ کنٹوں‘ نالوں کے تحفظ کے علاوہ سرکاری اثاثہ جات کے تحفظ کیلئے بھی مجاز ایجنسی کے طور پر خدمات انجام دے گا اور سرکاری اراضیات‘ پارکس‘ سڑکوں ‘ فٹ پاتھس کے علاوہ دیگر مقامات پر کئے جانے والے قبضہ جات کی بھی برخواستگی کیلئے ’حیڈرا‘ کی کاروائیوں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جی ایچ ایم سی حدود میں موسمی اور ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو محدود کیا جاسکے۔3