جی ایچ ایم سی میں بدعنوانی کا ایک اور معاملہ منظر عام پر

   

56 لاکھ روپئے کا غبن، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کے بعد خاتون آپریٹر نے ایک ہی دن میں رقم جمع کرادی
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اگست (سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی میں بدعنوانی کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے ۔ آن لائین ادائیگی کے نظام کی دستیابی کے باوجود چند لوگوں نے نقدی کی وصولی کو غیر قانونی آمدنی کا ذ ریعہ بنالیا تھا ۔ چند ملازمین بلدیہ کے کامن سرویس سنٹر (CSC) میں وصول ہونے والے ٹیکس کو خزانے میں جمع کرنے کی بجائے خود رکھ لئے ۔ شیری لنگم پلی زون میں یہ معاملہ پھر ایک مرتبہ سامنے آیا ۔ چندا نگر سرکل کے قیام کے بعد ایک خاتون (سبھاشنی) وہاں کے سی ایس سی سنٹر میں بطور کمپیوٹر آپریٹر خدمات انجام دے رہی ہے ۔ پراپرٹی ٹیکس ٹریڈ لائسنس فیس جیسی ادائیگیوں کے علاوہ پیدائش و موت کے سرٹیفکٹس کی اجرائی ، پراپرٹی ٹیکس کی تشخیص کے درخواستوں کی وصولی CSC میں کی جاتی ہے ۔ حالیہ آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ شہریوں کی جانب سے ادا پراپرٹی ٹیکس اور ٹریڈ لائسنس کی فیس بلدیہ کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کروائی گئی ۔ مالیاتی سال 2024-25 کے آغاز سے اب تک تقریباً 56 لاکھ روپئے غبن کی عہدیداروں نے نشاندہی کی ہے ۔ آڈیٹر نے بتایا کہ ٹیکس کی ادائیگیوں کے تعلق سے رسیدیں جاری کرنے کے باوجود محصلہ رقم اکاونٹ میں جمع نہیں کی گئی ۔ جب اس معاملہ کی آپریٹر سے تفصیلات طلب کرنے کی کوشش کی گئی تو ایک عہدیدار نے بتایا کہ وہ دستیاب نہیں ہے ۔ اعلیٰ عہدیدار میدان میں کود پڑے اور خاتون کو دفتر طلب کیا گیا ۔ کمپیوٹر لاگن آئی ڈی ، پاس ورڈ کے ذریعہ اس کے استعمال کردہ کمپیوٹر کی جانچ کی گئی ۔ اس سے پتہ چلا کہ یکم اپریل 2024 سے 31 مارچ 2025 تک 36 لاکھ اپریل 2025 سے اب تک تقریباً 21 لاکھ روپئے وصول ہوئے مگر اکاونٹ میں جمع نہیں کئے گئے ۔ پوچھ تاچھ پر آپریٹر نے غلطی کا اعتراف کیا اور ایک ہی دن میں 56 لاکھ روپئے (26 اگست) کو جی ایچ ایم سی کے اکاؤنٹ میں جمع کروادئے ۔ ایک ہی دن میں اتنی بڑی رقم جمع کروانے پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔2