جی ایچ ایم سی میں فوڈ انسپکٹرس کی قلت

   


شہر میں مختلف ہوٹلس اور ریسٹورنٹس کی جانب سے فروخت کی جانے والی غذائی اشیاء کے معیار کی جانچ اور نگرانی کے لیے جی ایچ ایم سی کے تمام چھ زونس میں صرف تین فوڈ انسپکٹرس ہی ہیں ۔ اس لیے غذا میں ملاوٹ پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے اور اس سے عوام کی صحت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔۔

حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) کے تمام چھ زونس میں مختلف ہوٹلس ، ریسٹورنٹس وغیرہ کی جانب سے فروخت کی جانے والی غذائی اشیاء کے معیار کی نگرانی کے لیے صرف تین فوڈ انسپکٹرس ہیں ، فوڈ انسپکٹرس کی کمی کی وجہ غذائی اشیاء میں ملاوٹ کی صحیح طور پر جانچ نہیں ہوسکتی ہے جس کی وجہ عوام کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد ایک طویل مدت تک بند رہنے کے بعد ہوٹلس اور دوسرے ایٹریز حال میں پھر کھل گئے ہیں ۔ لوگ اب ان مقامات پر جارہے ہیں ۔ لیکن ناکافی میان پور کے باعث ان مقامات پر صحت و صفائی پر توجہ ، اور دوسرے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غذا میں ملاوٹ کو روکنے کے اقدامات گویا پس پشت ہو کر رہ گئے ہیں ۔ فوڈ انسپکٹرس کے 16 جائیدادوں میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے عدالتی تنازعہ کے باعث گذشتہ سال صرف 20 جائیدادوں کا اعلان کیا گیا ۔ 20 فوڈ انسپکٹرس کی ٹریننگ مکمل ہونے مزید 40 دن درکار ہوں گے ۔ جب تک وہ ٹریننگ مکمل نہیں کریں گے انہیں ان کی پوسٹنگس نہیں دی جائیں گی ۔ تمام چھ زونس کے لیے چھ گزیٹیڈ فوڈ انسپکٹرس کو مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاہم فی الوقت صرف تین گزیٹیڈ فوڈ انسپکٹرس ہیں ۔ ان میں دو عہدیداروں کی سرویس کی مدت ختم ہوگئی ہے لیکن ان کی سرویس میں توسیع کی گئی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں 10,000 چھوٹے ہوٹلس ، کری پوائنٹس اور 3000 آرڈینری اور اسٹار ہوٹلس ہیں ۔ اور دیگر ایٹریز کی تعداد تقریبا 2000 ہے ۔ فوڈ انسپکٹرس ایک سال میں 230 سے زائد نمونے حاصل نہیں کرپاتے ہیں ۔ کئی موقعوں پر ملاوٹ کا پتہ چلا ہے ۔ لیکن ملاوٹ کرنے والوں کو جرمانہ عائد کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ مختلف بدعنوانیوں کے لیے جرمانوں پر ایک موبائل اپلیکیشن لانے کی کوششیں ثمر آور نہیں ہوتیں ۔ ویل اسٹائبلیشڈ برانڈس جیسے سوئیگی اور زوماٹو کی جانب سے فراہم کئے جانے والے آرڈرس میں بھی ملاوٹ کئے جانے کی اطلاعات ہیں ۔ فورم فار گڈ گورننس کے سکریٹری ایم پدمنا بھا ریڈی نے وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ پر زور دیا کہ غذا میں ملاوٹ کو روکنے کے لیے اقدامات کئے جائیں ۔ انہوں نے کے ٹی آر سے پر زور اپیل کی کہ غذا میں ملاوٹ کی شکایت درج کروانے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کی جائے اور نمونوں کے معائنہ کیلئے ایک اور لیاب قائم کی جائے ۔ صحت عامہ سے متعلق فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ ایکٹ 2002 پر گریٹر حیدراباد میں عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے ۔ یہ قانون 2011 سے جی ایچ ایم سی میں نافذ العمل ہوا لیکن شہر میں اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے ۔ اس ایکٹ کے مطابق جی ایچ ایم سی کے پاس اس کے حدود میں موجود ایٹریز کی تفصیلات ہونی چاہئے ۔ معائنے باقاعدہ طور پر وقفہ وقفہ سے کئے جانے چاہئے اور حاصل کئے جانے والے غذائی نمونوں کے معائنہ کے لیے کافی لیابس ہونے چاہئے ۔ اگر نمونوں کے معائنہ میں ملاوٹ کا پتہ چلے تو قصور واروں کو سخت سزا دی جانی چاہئے ۔ پروڈکشن کے مقام سے پیاکنگ اور ٹرانسپورٹیشن تک غذائی اشیاء میں ملاوٹ کرنے کا کوئی موقع نہیں ہونا چاہئے ۔ اس قانون پر عمل درآمد کرنے کے لیے انفورسمنٹ عہدیداروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ فوڈ انسپکٹرس کی قلت کی وجہ اس قانون پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے ۔۔