کروڑہا روپئے کا بجٹ کہاں جا رہا ہے ۔ کچرے کی نکاسی میں تک تغافل جاری
حیدرآباد۔23نومبر(سیاست نیوز) حیدرآباد کی سڑکوں کی بدحالی کو دور کرنے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے پاس پیسہ نہیں ہے‘ شہر سے کچرے کی نکاسی کو باقاعدہ بنانے بلدیہ کے پاس پیسہ نہیں ہے‘ آر ٹی سی کو دینے پیسہ نہیں ہے‘ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کی تکمیل کیلئے پیسہ نہیں ہے‘ پرانے شہر میں معلنہ پراجکٹس کی تکمیل بلکہ ان کے آغاز کیلئے بھی پیسہ نہیں ہے‘سڑک کی توسیع کیلئے جائیدادوں کے حصول کی نشاندہی کے بعد ان کو حاصل کرنے پیسہ نہیں ہے تو پھر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو جو ٹیکس وصولی کے علاوہ لیبر لائسنس و دیگر ذرائع سے ہونے والی آمدنی جاکہاں رہی ہے!جی ایچ ایم سی کی جانب سے کروڑہا روپئے کے بجٹ کا اعلان کیا جا رہا ہے لیکن جی ایچ ایم سی کا کوئی ایسا پراجکٹ نہیں ہے جو کہ حالیہ عرصہ میں پائے تکمیل کو پہنچا ہو اور پرانے شہر کے عوام کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا گیا ہے وہی صورتحال جی ایچ ایم سی میں بھی جاری ہے سڑکوں کی ابتر حالت سے حادثات میں اضافہ کے علاوہ سڑکوں اور گلیوں میں گندگی جی ایچ ایم سی کی کارکردگی کی منہ بولتی تصویر ہے ۔ مئیر ‘ کمشنر ‘ ایڈیشنل کمشنراں بلدیہ کی جانب سے آئے دن ہوٹلوں پر دھاؤوں اور باورچی خانوں میں گندگی پر لاکھوں روپئے چالان کرکے تفصیلات ارسال کی جاتی ہیں لیکن شہر کی سڑکوں پر گندگی اور زمانہ دراز سے تعطل کا شکار کاموں کی عدم تکمیل کے علاوہ سڑکوں کی ابتر صورتحال پر جی ایچ ایم سی کو چالان کرنے والا کوئی نہیں ہے جس کے سبب جی ایچ ایم سی عہدیدار من مانی کررہے ہیں اور کسی پراجکٹ پر دریافت کرنے پریہ کہا جا رہاہے کہ جی ایچ ایم سی کے پاس بجٹ کی قلت کے سبب ترقیاتی کام مفلوج ہیں۔بجٹ کی عدم موجودگی کے سبب ترقیاتی کاموں میں تاخیر قابل فہم ہیں لیکن شہر کے محلہ جات سے صفائی اور کچرے کی نکاسی نہ ہونے سے بلدیہ کی کارکردگی و عہدیدارو ںکی لاپرواہی ظاہر ہونے رہی ہے لیکن اعلیٰ عہدیدارو ںکی خاموشی کے سبب شہریوں کو بدبو و تعفن کے علاوہ گندگی برداشت کرنی پڑرہی ہے ۔م