جی ایچ ایم سی میں 27 بلدیات کو ضم کرنے کا بل سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے

   

Ferty9 Clinic

اسمبلی میں مباحث مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے بلز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا

حیدرآباد۔ 2 جنوری (سیاست نیوز) مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے جی ایچ ایم سی میں 27 میونسپلٹیز کے انضمام سے متعلق اسمبلی میں پیش کردہ بلز پر کئی شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے ہوئے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی جب ازسرنو حد بندی کی جاتی ہے مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت نے 2026 میں قومی سطح پر مردم شماری کرانے کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت جی ایچ ایم سی کے 300 ڈیویژنس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کی حد بندی کس بنیاد پر کی جارہی ہے۔ کیا 2011 کی مردم شماری کے لحاظ سے بلدی ڈیویژنس کو تقسیم کیا جارہا ہے، یا ووٹر لسٹ کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے، یا پھر مرکزی حکومت نے نئی مردم شماری کا جو اعلان کیا ہے اس کو قبول کرتے ہوئے بلدی حلقوں کی نئی حد بندی کی جائے گی۔ اس کا واضح اعلان کئے بغیر حکومت نے انضمام کی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جو ڈی لمیٹیشن کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلہ کرنے سے قبل ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور کارپوریٹرس کے علاوہ عوام سے کوئی رائے حاصل نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ جی ایچ ایم سی کونسل کے اجلاس میں بھی مناسب بحث نہیں کی گئی اور انضمام کی قرارداد منظور کردی گئی۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات اور خواتین کو کتنے بلدی ڈیویژنس مختص کئے گئے اس کی بھی وضاحت نہیں ک ی گئی۔ جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکلس اور زونس کو توسیع دی گئی ہے۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ مجلس پارٹی شہر حیدرآباد کو توسیع اور ترقی دینے کے خلاف نہیں ہے۔ ہم فوتھ سٹی کی تجویز کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں مگر جو طریقہ کار استعمال کیا گیا ہے۔ اس پر ہمیں اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے 150 بلدی ڈیویژنس میں انتظامی ذمہداریوں کے لئے کتنا عملہ تھا اور ڈیویژنس کی تعداد 300 ہو جانے پر کتنے عملے کی ضرورت پڑے گی۔ کیا حکومت نے پہلے سے ہی ایسے کوئی انتظامات کئے ہیں۔ لہذا وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اس بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔ 2