20 فیصد سروے مکمل، 80 ہزار مکانات میں جائیداد ٹیکس کے تعلق سے تضادکی نشاندہی
حیدرآباد ۔ 3 مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں جائیداد ٹیکس ادا نہ کرنے والوں یا کم ادا کرنے والی عمارتوں کی جغرافیائی انفارمیشن سسٹم سروے کے ذریعہ نشاندہی کی جارہی ہے۔ اب تک 20 فیصد سروے ہوچکا ہے اور سروے کرنے والوں نے 80 ہزار مکانات کی پیمائش کی اور پراپرٹی ٹیکس میں تضادات کی نشاندہی کی ہے۔ سروے کرنے والوں نے کمشنر جی ایچ ایم سی کو رپورٹ پیش کی ہے، جس پر کمشنر بلدیہ نے قانون کے مطابق ان تمام عمارتوں کے مالکین کو نوٹس جاری کرنے اور وضاحت طلب کرکے کارروائی کی عہدیداروں کو ہدایت دی ہے جس کے بعد زونل کمشنرس نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے قانون میں سیکشن 213 کے تحت نوٹس جاری کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ واضح رہیکہ گزشتہ سال جی آئی ایس سروے کا آغاز ہوا۔ ڈرون کے ذریعہ سارے شہر کی تصویرکشی کرکے شہر کا جغرافیائی نقشہ بنایا گیا ہے۔ اب گھر گھر کا سروے جاری ہے۔ نجنک تعمیرات والے 20 فیصد مکانات کے سروے میں 80 ہزار مکانات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پورے شہر کا سروے کرنے پر اندازہ لگایا جارہا ہیکہ 5 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نوٹسیں جاری کی جائیں گی ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ شناخت شدہ ہر مکان کے مالک کو نوٹس روانہ کریں۔ مالکین مکانات کو نوٹس کو آن لائن اندراج کرنے کی اسسٹنٹ میونسپل کمشنرس کو ہدایت دی گئی ۔ نوٹس کی اجرائی کے بعد وضاحت کیلئے مالک کو 15 دن کی مہلت دی جائیگی۔ مالک مکان کی وضاحت کی بنیاد پر متعلقہ بل کلکٹر یا ٹیکس انسپکٹر فیلڈ کا معائنہ کریں گے اور ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ پیش کریں گے۔ وضاحت نہ کرنے پر بغیر جانچ کے ٹیکس نافذ کردیا جائے گا۔ نوٹس پر شہریوں کو اعتراض ہو تو ان کیلئے ایک دن مختص کیا جائے گا اور متعلقہ ڈپٹی کمشنران اعتراضات کی جانچ کا حکم جاری کریگا۔ نوٹس جاری کرکے مالک مکان کے فون نمبر پر ایس ایم ایس سے اطلاع دی جائے گی۔2