جی ایچ ایم سی کارپوریٹرس کے موبائیل فون بلز پر 3.4 کروڑ کا خرچ

   

ماہانہ 4 ہزار روپئے کی ادائیگی، معاشی مسائل کا شکار کارپوریشن پر اضافی بوجھ
حیدرآباد : مالیاتی بحران کا شکار گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لئے کارپوریٹرس کے ٹیلیفون بلز مزید بوجھ میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران کارپوریشن نے کارپوریٹرس کے لئے موبائیل فونس کے بل کے طور پر 3.4 کروڑ روپئے ادا کئے ہیں۔ اگرچہ کئی موبائیل کمپنیوں نے کم قیمت پر اَن لمیٹیڈ کالس کی سہولت فراہم کی تھی تاہم ہر کارپوریٹر نے ماہانہ 4 ہزار روپئے موبائیل فون بل کے طور پر حاصل کئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی سے آر ٹی آئی کے تحت حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق کارپوریشن نے 155 کارپوریٹرس اور کوآپشن ممبرس پر ایک ماہ میں 6.2 لاکھ روپئے خرچ کئے۔ اپنی میعاد کے دوران ہر کارپوریٹر نے موبائیل فون بل کے طور پر 2.24 لاکھ روپئے حاصل کئے ہیں۔ کارپوریشن کو ٹیلیفون بل کے طور پر جملہ 3.47 کروڑ خرچ کرنے پڑے ہیں۔ ٹیلیفون بل کی رقم ہر ماہ راست طور پر کارپوریٹرس کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کردی جاتی ہے۔ 2016 ء کے انتخابات میں منتخب ہونے والے کارپوریٹرس نے اپنی میعاد کی تکمیل تک ٹیلیفون کا بل حاصل کیا۔ کارپوریٹرس نے گزشتہ میعاد میں اعزازیہ کے طور پر 6 ہزار روپئے اور ٹیلیفون بل کے طور پر 4 ہزار روپئے ماہانہ وصولی کا اعتراف کیا ہے۔ جہدکاروں نے الزام عائد کیا ہے کہ کارپوریشن عوامی رقومات کا بے جا استعمال کررہا ہے اور کارپوریٹرس کو موبائیل کمپنیوں کی جانب سے کم قیمت پر اَن لمیٹیڈ کالس کی سہولت کے باوجود ماہانہ 4 ہزار روپئے بطور بِل ادا کرنا عوامی رقومات کا زیاں ہے۔ واضح رہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے دوران بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کارپوریشن کیلئے مسئلہ بن چکی ہے۔ کارپوریشن نے حکومت سے تعاون کی خواہش کی لیکن جاریہ سال کے بجٹ میں خاطر خواہ رقم الاٹ نہیں کی گئی۔