کاموں میں تیزی کیلئے کارپوریشن کو ہدایت کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں
حیدرآباد :۔ گذشتہ اکٹوبر کے سیلاب کے بعد شہر میں بارش کے پانی کی نکاسی کی موریاں ہر جگہ بحث کا موضوع بن گئی ہیں ۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے اس سلسلہ میں کاموں کو تیز نہیں کیا ہے ۔ ریاستی حکومت نے جی ایچ ایم سی کو ہدایت دی تھی کہ موجودہ اسٹارم واٹر ڈرین نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے اقدامات شروع کئے جائیں اور شہر میں سیلاب کو روکنے کے لیے نئے نیٹ ورک قائم کئے جائیں ۔ لیکن یہ کارپوریشن اس سے متعلق منصوبہ بنانے اور کاموں کی انجام دہی کے معاملہ میں پیچھے ہوگیا ہے ۔ عہدیداروں سے کہا گیا تھا کہ زون واری منصوبے بنائے جائیں اور سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ جھیلوں اور تالابوں کے آبگیر علاقوں میں غیر مجاز عمارتوں کو برخاست کرنے ، نالوں پر غیر قانونی قبضوں اور دیگر اسٹرکچرس کو برخاست کرنے پر توجہ دی گئی جس کی وجہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ہو کر سیلاب کی صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔ چند زونس بشمول کوکٹ پلی اور ایل بی نگر کو چھوڑ کر دیگر زونس کی جانب سے ہنوز تفصیلات پیش نہیں کئے گئے ۔ اس اقدام کا مقصد میں زونس میں ان کاموں کی نشاندہی کرنا ہے جن کو ترجیحی اساس پر شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں جون تک انجام دیا جائے ۔ فی الوقت شہر کا اسٹارم واٹر ڈرین نیٹ ورک بشمول میجر اور مائنر تقریبا 1,295 کلو میٹر کا ہے ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کی جانب سے سیلاب کو روکنے کے اقدامات کے علاوہ نالوں کو مربوط کرنے اور غیر قانونی قبضوں کو برخاست کرنے کے لیے ایک حکمت عملی بنانے پر بھی کام کیا جارہا ہے ۔ گذشتہ اکٹوبر میں ریاستی حکومت نے حیدرآباد میں 472 ڈرین ورکس شروع کرنے کے لیے جی ایچ ایم سی کو 298.34 کروڑ روپئے منظور کئے تھے ۔ یہ منظوری ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے جی ایچ ایم سی کو یہ ہدایت دینے کے بعد دی گئی کہ مانسون کے دوران ناخوشگوار واقعات کے تدارک کے لیے کھلے نالوں پر کیاپنگ اور مرمت کے کام شروع کئے جائیں ۔ میونسپل کارپوریشن نے حیدرآباد میں 298.34 کروڑ روپئے مصارف سے 472 اسٹارم واٹر ڈرینس کے مرمتی کام اور کور کرنے کے لیے تجاویز پیش کئے تھے ۔ تاہم یہ کام ہنوز بہت سست رفتاری کا شکار ہیں ۔ تاہم جی ایچ ایم سی کے ایک سینئیر عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ چند کام کیے گئے ہیں اور کئی کام کئے جارہے ہیں جب کہ دیگر ٹنڈر مرحلہ میں ہیں ۔۔