جی ایچ ایم سی کا ٹی ڈی آر فروخت اسکام

   

ملزم کے اقبالیہ بیان کے باوجود معاملہ کی کوئی شکایت نہیں، کارپوریٹر اور خانگی بینک کی حصہ داری

حیدرآباد۔28 جولائی (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے کارپوریٹر کی تنخواہ 4000روپئے اور موبائیل کے اخراجات 2000روپئے ہوتے ہیں لیکن اس عہدہ پر پہنچنے کے لئے لاکھوں روپئے بلکہ بعض جگہ پر ایک کروڑ سے زیادہ خرچ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو آخرکیوں!ایسی انہیں کیا آمدنی ہوتی ہے جو کارپوریٹر بننے کے بعد کروڑہا روپئے کی گاڑیوں میں یہ اراکین بلدیہ سفر کرنے لگتے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ راجندر نگر میں ایک اراضی پر موجود درختوں پر برقی میٹر لگاتے ہوئے اسے آبادی ظاہر کرنے کے معاملہ میں کی گئی دھوکہ دہی دراصل صرف اراضی پر قبضہ کی کوشش یا فرضی دستاویزات کے ذریعہ اراضی کو ہڑپنے کی کوشش نہیں بلکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے جاری کئے جانے والے TDR سرٹیفکیٹ آف ٹرانسفریبل ڈیولپمنٹ رائیٹس کا اسکام ہے جو کہ بلدی عہدیداروں بالخصوص اعلیٰ عہدیداروں کی مدد کے بغیر ممکن نہیںہے۔ راجندر نگر پولیس نے 9جولائی 2024کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر 675/2024 میں دو افراد کو گرفتار کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کیا اور عدالت میں دائر کی گئی ریمانڈ ڈائری جو کہ 10جولائی 2024کو داخل کی گئی ہے اس میں کئی ایک انکشافات ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اس معاملہ کی تحقیقات میں مزید کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور نہ ہی کروڑہا روپئے مالیت کے TDR اسکام کے اسکام میں ملوث عہدیداروں کے متعلق کسی طرح کی کاروائی کے آـثار نظر آرہے ہیں۔اس مقدمہ میں گرفتار شدہ ملزم نمبر 2 اشفاق علی نے اپنے اقبالیہ میں بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس موجود TDR کی فروخت کو یقینی بنانے کی صورت میں انہیں 40 فیصد حصہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان سے ملاقات کی اور یہ معاملت طئے پانے کے بعد انہیں کارپوریٹر کو 2کروڑ روپئے ادا کئے گئے جس میں رقم کا کچھ حصہ دارالسلام بینک کے ایک کھاتہ سے بھی آن لائن ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ریمانڈ ڈائری میں نام اور ملزم کی جانب سے اعتراف کی بنیاد پر بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل و دختر سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ محترمہ کے کویتا تہاڑ جیل میں بند ہے ۔ (سلسلہ صفحہ 5 پر)