اطراف و اکناف کے بلدیات کا انضمام، تین میئر اور تین کمشنران کے ساتھ علیحدہ شعبہ جات
حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں تین مئیر اور تین علحدہ کمشنرس ہوں گے اور یہ عمل ریاست میں بلدی انتخابات کے عمل کی تکمیل کے بعد ہی شروع کیا جائے گا۔حکومت تلنگانہ نے جی ایچ ایم سی کے حدود میں توسیع کرتے ہوئے اطراف و اکناف کی شہری بلدیات کو جی ایچ ایم سی میں شامل کرنے کے بعد اب انہیں 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے اور کہا جارہاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے تحت موجود تینوں بلدیا ت میں حیدرآباد‘ ملکاجگری اور سائبر آباد بلدیہ شامل ہوں گے ۔ جی ایچ ایم سی میں اطراف واکناف کی بلدیات کے انضمام کے بعد جی ایچ ایم سی میں موجود بلدی حلقوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں 300 کرنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اور اب جاری منصوبہ بندی کے مطابق کہا جارہاہے کہ ریاستی حکومت کے احکامات کے مطابق جی ایچ ایم سی کے حدود میں تین مئیر اور تین علحدہ بلدی کمشنران ہوں گے اور تینوں بلدیات کے اپنے اپنے علحدہ شعبہ جات ہوں گے جو کہ ان بلدیات کے تحت کام کریں گے۔ذرائع کے مطابق تلنگانہ حکومت نے جو منصوبہ تیار کیاہے اس پر عمل آوری کے لئے ہونے والی تاخیر کو دیکھتے ہوئے ریاست میں پہلے تمام زیر التواء شہری بلدیات کے انتخابات کے لئے اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ ان شہری بلدیات کے انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی از سر نو تقسیم اور نئی بلدیات کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ریاستی الیکشن کمیشن جو کہ ریاست میں بلدی انتخابات کے انعقاد کے لئے پوری طرح سے تیار ہے اور اس سلسلہ میں فہرست رائے دہندگان کو قطعیت دینے کے علاوہ نشستوں کو محفوظ قرار دینے کا عمل بھی مکمل کیا جاچکا ہے اسے دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں بلدی انتخابات کا عمل نئی بلدیات کی تشکیل کے بعد ہی ہوگا۔جی ایچ ایم سی حدود کی تقسیم اور نئے بلدیات کے قیام سے متعلق عہدیداروں کا کہناہے کہ انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کے اس اقدام کی ستائش کی جانی چاہئے لیکن یہ بات واضح نہیں ہوپا رہی ہے کہ یہ عمل کب تک مکمل کیا جائے گا موجودہ بلدیہ کی معیاد 10فروری2026 کو ختم ہونے جا رہی ہے جو کہ موجودہ مئیر جی ایچ ایم سی مسز جی وجیہ لکشمی کی نگرانی میں اب بھی کارکردہے اور بلدیہ کی جانب سے موجود کارپوریشن کو تحلیل کرنے کے سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اگر جی ایچ ایم سی انتخابات کے اعلان میں تاخیر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کمشنر بہ اعتبار عہدہ اسپیشل آفیسر ہوجائیں گے اور وہ بلدیہ کی عدم موجودگی میں اپنے طور پر فیصلہ کرنے کے مجاز عہدیدارہوںگے۔3