جی ایچ ایم سی کو 5 سال میں ہورڈنگس سے 97 کروڑ کی آمدنی ہوئی

   

حیدرآباد :۔ ایک نئی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کے ساتھ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے شہر میں غیر مجاز ہورڈنگس اور اشتہارات کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے ۔ گذشتہ چھ ماہ میں 600 سے زائد غیر مجاز ہورڈنگس اور لائسنس کی مدت ختم ہونے والے ہورڈنگس کو برخاست کردیا ۔ یہ کام جی ایچ ایم سی کی جانب سے 2018 میں شہر میں زائد از 300 غیر مجاز ہورڈنگس کی نشاندہی کرنے اور ان اسٹرکچرس کو صاف کرنے کے لیے شروع کی گئی ایک خصوصی مہم کے بعد کیا گیا ۔ چونکہ میونسپل کارپوریشن کے پاس انہدام کے لیے ضروری ایکوپمنـٹ اور میان پاور کی کمی ہے ۔ اس لیے انہدام کے لیے ایک خانگی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ تاہم اس مہم کے باوجود کئی غیر مجاز اشتہاری ہورڈنگس ، جس کی وجہ میونسپل کارپوریشن کو اشتہارات سے ہونے والی آمدنی کا بڑا نقصان ہورہا ہے ، اب بھی لگائے جارہے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے کہا کہ صرف 2600 مجاز ہورڈنگس ہیں جب کہ باقی غیر قانونی ہیں ۔ اس دوران ایک آر ٹی آئی جواب میں انکشاف ہوا کہ اپریل 2016 اور دسمبر 2020 کے درمیان گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ہورڈنگس اور سائن بورڈ ڈسپلے سے 97.42 کروڑ روپئے کا مالیہ حاصل ہوا ۔ یہ آر ٹی آئی yourti.in کے ممبر کریم انصاری نے داخل کی تھی ۔ جی ایچ ایم سی نے کہا کہ اسے ہورڈنگس اور یونی پولز سے 80.18 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ کارپوریشن نے یہ بھی کہا کہ اسے 2017-18 میں ہورڈنگس سے سب سے زیادہ آمدنی 26.26 کروڑ روپئے ہوئی ۔ اس کے بعد 2018.19 میں 20.68 کروڑ روپئے ، 2019-20 میں 18.44 کروڑ روپئے اور 2016.17 میں 14.80 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ 2020-21 میں اسی کارپوریشن کو حکومت کی جانب سے اپریل 2020 میں یہ کہتے ہوئے ایک حکم جاری کئے جانے کے بعد ہوڈنگس سے کوئی آمدنی نہیں ہوئی کہ کمرشیل اداروں کو نام کا بورڈ لگانے کی اجازت ہے جس کا سائز زیادہ سے زیادہ 19ftx5ft ہو ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ چھت کے اوپر ہورڈنگس اور زمین کی سطح سے 15 فیٹ کی اونچے کسی بھی اشتہاری اسٹرکچرس کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ کارپوریشن کو گذشتہ پانچ سال میں نیان اور گلوسائن بورڈس سے 17.34 کروڑ روپئے کا مالیہ بھی حاصل ہوا ۔ کارپوریشن کو اس سے 2019-20 میں سب سے زیادہ تقریبا 4.33 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ اس کے بعد 2016.17 میں 4.26 کروڑ روپئے ، 2018-19 میں 4.19 کروڑ روپئے اور 2017-18 میں 4.01 کروڑ روپئے کا مالیہ حاصل ہوا ۔ 2020-21 میں جی ایچ ایم سی کو نیان اور گلو سائن بورڈ ایڈورٹائزنگ سے صرف 0.43 کروڑ روپئے ہی کی آمدنی ہوئی ۔۔