جی ایچ ایم سی کی تقسیم پر تجسس برقرار!

   

حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن گورننگ باڈی کی میعاد ختم ہونے اور ایک نئی مجلس شروع ہونے کو ہے ۔ اس کے باوجود انتظامیہ کیسی ہوگی اس پر تجسس برقرار ہے ۔ حکام بھی واضح طور پر کچھ کہنے سے قاصر ہیں ۔ اگرچہ کہ یہ یقینی ہے کہ یہ تین کارپوریشنوں میں تشکیل پائے گا ۔ لیکن یہ بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ کیا تینوں کارپوریشنوں پر مشترکہ نگرانی ہوگی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ حیدرآباد سب سے بڑا شہر رہے گا ۔ اس تناظر میں یہ خیالات بھی ہیں کہ بنگلور طرز حکمرانی کے متوازی انتظامیہ ہوسکتی ہے۔ حالانکہ پچھلے سال تک بنگلور میں پانچ کارپوریشن تھیں ۔ سبھی کو ایک چھت کے نیچے لایا گیا ہے ۔ بروہت بنگلور مہانگرا پالیکا ( بی بی ایم پی ) کی جگہ گریٹر بنگلورو اتھاریٹی ( جے بی اے ) تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ میونسپل کارپوریشن کے کام بھی انجام دے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کرناٹک کے چیف منسٹر سدا رامیا ، جی بی اے کے چیرمین ہیں اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار وائس چیرمین ہیں ۔ ایک چیف کمشنر کے ساتھ اہم محکموں کے لیے چار آئی اے ایس اسپیشل کمشنر ہوتے ہیں ۔ بنگلورو میں پانچ سٹی کارپوریشنس ( وسطی ، شمالی ، جنوبی ، مشرقی ، مغربی ) ہیں ۔ ان سب کے لیے صرف ایک چیف کمشنر ہے ۔ پانچوں کارپوریشنوں کے لیے الگ الگ پانچ کمشنر ہیں ۔ دو ایڈیشنل کمشنر ہیں ۔ ایڈیشنل کمشنرس IAS اور KAS ( کرناٹک ایڈمنسٹریٹیو سرویس ) کے افسران ہیں ۔ کیا حیدرآباد بھی اس طرح کی انتظامیہ کے ذریعہ ایک ہی شہر کے طور پر جانا جاتا رہے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کیا سوچ رہے ہیں اور وہ کیا کرنے والے ہیں ابھی اس کا انتظار رہے گا ۔ یہ تمام کارپوریشنوں میں پالیسیوں کے یکساں نافذ کو یقینی بناتا ہے ۔
٭ یہ شہریوں کی خدمات ، پراپرٹی ٹیکس ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ، وارڈ لیول پلاننگ وغیرہ کی نگرانی کرتا ہے ۔
٭ سٹی کارپوریشنس روزانہ کی کارروائیوں اور مقامی انتظامیہ کو سنبھالتی ہیں ۔
٭ بڑے منصوبوں ، آب و ہوا کے منصوبوں وغیرہ کی جی بی اے نگرانی کرتا ہے ۔
٭ کارپوریشنس اہم اور حساس معاملات کو نافذ کرنے سے پہلے جی بی اے کی منظوری حاصل کرتی ہیں ۔
٭ ایگزیکٹیو کمیٹی چیف منسٹر ، وزیر ترقیات اور چیف کمشنر پر مشتمل ہوگی ۔
مختصر یہ کہ مقامی کارپوریشنس لوگوں کو وارڈ کی سطح پر ضروری خدمات اور سہولیات فراہم کرتی ہیں ۔ جی بی اے بڑے منصوبوں اور اہم فیصلوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے مقابلے حیدرآباد میں تین کارپوریشن ہیں ۔ زونل سطح کے افسران ان میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں ۔ بڑے منصوبے شروع کرنے کے لیے کروڑوں کے فنڈز درکاں ہیں ۔ جی ایچ ایم سی نے پہلے ہی ہزاروں کروڑ کا قرض لے کر کئی پروجکٹس شروع کئے ہیں ۔۔ ش