جی ایچ ایم سی کی تین علحدہ کارپوریشنوں میں تقسیم کا عمل جاری

   

Ferty9 Clinic

عہدیداروں اور اسٹاف کی تقسیم 10 فروری تک مکمل کرنے کی ہدایت، حیدرآباد کارپوریشن کے تحت 6 زونس اور 150 وارڈس ہوں گے
حیدرآباد 8 جنوری (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی تنظیم جدید کا کام جاری ہے اور محکمہ بلدی نظم و نسق نے تین علحدہ کارپوریشنوں کی تجویز کے تحت عہدیداروں کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے توسیع شدہ جی ایچ ایم سی کو تین علحدہ کارپوریشنوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ کارپوریشن کی میعاد 10 فروری کو ختم ہورہی ہے جس کے بعد تین علحدہ کارپوریشنوں کی تشکیل کا اعلامیہ جاری کیا جاسکتا ہے ۔ حیدرآباد ، ملکاجگری اور سائبر آباد کارپوریشنوں کے تحت جملہ 12 زون ، 16 بلدی سرکلس اور 300 بلدی وارڈس ہونگے ۔ محکمہ بلدی نظم و نسق نے عہدیداروں کی تقسیم کا عمل 10 فروری تک مکمل کرنے ہدایت دی ۔ 3 علحدہ کارپوریشنوں میں عہدیداروں اور اسٹاف کی تقسیم جاری ہے۔ حکومت نے اگرچہ تین کارپوریشنوں کی تشکیل پر کوئی اعلان نہیں کیا لیکن حکام کی سرگرمیوں کے پیش نظر تین کارپوریشنوں کی تشکیل یقینی دکھتی ہے۔ ملازمین و عہدیداروں کی تقسیم بھی تین کارپوریشنوں کی بنیاد پر عمل میں آرہی ہے۔ حکومت نے شہر کی اطراف کی 20 میونسپلٹیز اور 7 کارپوریشنوں کو ضم کرنے کا عمل مکمل کرلیا ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی آر وی کرنن نے عہدیداروں کے اجلاس میں تین کارپوریشنوں کی تشکیل کا اشارہ دیا اور اسی بنیاد پر عہدیداروں اور اسٹاف کی تقسیم کا عمل جاری ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے موجودہ 12 زونس کو تین کارپوریشنوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ پہلے کارپوریشن کے تحت شہر کے اہم علاقے شامل رہیں گے جس کے تحت 6 زونس شامل کئے جائیں گے ۔ باقی دو کارپوریشنوں کے تحت فی کس تین زونس شامل کئے جائیں گے ۔ حکومت نے پہلے ہی ہر زون کیلئے ایڈیشنل کمشنرس کا تقرر عمل میں لایا ہے۔ موجودہ جی ایچ ایم سی ٹینک بنڈ میں واقع ہیڈ آفس سے کام کرے گا جس کے تحت شمس آباد ، راجندر نگر ، گولکنڈہ ، چارمینار ، خیریت آباد اور سکندرآباد زونس شامل رہیں گے۔ ملکاجگری میونسپل کارپوریشن کے تحت ملکاجگری ، اپل اور ایل بی نگر زونس کو شامل کیا جائے گا اور یہ زون تارناکہ ایچ ایم ڈی اے کی عمارت سے کام کریگا۔ سائبر آباد میونسپل کارپور یشن کے تحت شیر لنگم پلی ، کوکٹ پلی اور قطب اللہ پور زونس کو شامل کیا جائیگا اور یہ منی کنڈہ سے کام کریگا۔ موجودہ حیدرآباد کارپور یشن کے تحت 150 بلدی وارڈس برقرار رہیں گے جبکہ ملکاجگری میں 74 اور سائبرآباد کارپوریشن کے تحت 76 بلدی وارڈس رہیں گے۔1