مئیر ، ڈپٹی مئیر اور اسٹینڈنگ کمیٹی اراکین کو 17 آئی فونس ، 12 پرو میکس 512 جی بی دینے کا فیصلہ
حیدرآباد۔مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ ڈپٹی مئیر جی ایچ ایم سی کے علاوہ اسٹینڈنگ کمیٹی اراکین بلدیہ کو 17 آئی فون 12پرو میکس 512 جی بی دینے کے فیصلہ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی منظوری سے بلدیہ پر27لاکھ 23 ہزار روپئے کا بوجھ عائد ہوگا۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے اس متنازعہ فیصلہ نے قومی ذرائع ابلاغ میں جگہ حاصل کرلی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے من مانی فیصلہ کرتے ہوئے عوامی رقم کا بے دریغ استعمال کیا جانے لگا ہے ۔جی ایچ ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ پر مختلف گوشوں سے تنقیدیں کی جانے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ جی ایچ ایم سی میں اعلیُ عہدوں پر فائز عہدیداروں کی جانب سے عوامی رقومات کا بے دریغ استعمال کیا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد کی بلدیہ کی معیاد جو کہ 10 فروری 2021 کو ختم ہونے جا رہی ہے اس کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل ارکان کو آئی فون 12پرو میکس بطور تحفہ دینے کے فیصلہ پر شدید اعتراض کیا جار ہاہے اور یہ فیصلہ گذشتہ یوم منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے ۔ مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد بی رام موہن‘ ڈپٹی مئیر جی ایچ ایم سی بابا فصیح الدین کے علاوہ دیگر 15 اراکین اسٹینڈنگ کمیٹی کو اس تحفہ کی منظوری دی گئی ہے جبکہ گذشتہ برس اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل اراکین و مئیر کے علاوہ ڈپٹی مئیر کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے آئی فون 11پرومیکس بطور تحفہ دیا گیا تھا جو کہ 1لاکھ 30 ہزار روپئے مالیت کے تھے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے گذشتہ 5 برسوں کے دوران بجٹ نہ ہونے اور معاشی حالت ابتر ہونے کی شکایت کی جاتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود اسٹینڈنگ کمیٹی اراکین اور کارپوریٹرس کو قیمتی تحفوں کی روایات کو برقرار رکھا گیا تھا ۔ اب جو رقم اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنے اراکین کے لئے قیمی تحفہ حاصل کرنے منظور کی ہے اگر اس کا ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی راما راؤ کے ڈبل بیڈروم کے متعلق دیئے گئے بیان کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو ایسے میں 3 غریب خاندانوں کو ڈبل بیڈروم مکان دیئے جاسکتے ہیں کیونکہ گذشتہ یوم مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کہا تھا کہ ڈبل بیڈروم مکان کی تعمیر 9لاکھ روپئے میں مکمل کی جا رہی ہے اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین 27لاکھ روپئے کے تحفہ حاصل کر رہے ہیں اور آئندہ برس جب نیا ماڈل آئے گا تو یہ اراکین نئے ماڈل کے فون بھی خرید لیں گے لیکن اگر تین غریب خاندانوں کو ڈبل بیڈ روم مکان اس رقم میں تعمیر کردیئے جاتے ہیں تو زندگی بھر ان کے سر پر چھت رہے گی۔
