جی ایچ ایم سی کے جنرل باڈی اجلاس کیلئے مارشلس کی خدمات

   

بلدیہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں ناکام ، مالیہ کی کمی اصل بہانہ، مارشلس پر کثیر رقم کا خرچ

حیدرآباد۔5۔مارچ(سیا ست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی اور سڑکوں کی مرمت اور دیگر امور کے متعلق توجہ دہانی پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ بلدیہ کے پاس مالیہ نہ ہونے کے سبب ترقیاتی امور التواء کا شکار ہورہے ہیں اور کنٹراکٹرس بلز کی عدم اجرائی کے سبب جاریہ کاموں کی تکمیل میں تاخیر کر رہے ہیں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے فیصلہ کیا ہے کہ بلدیہ کے جنرل باڈی اجلاس کے دوران اسمبلی کے طرز پر مارشلس کا تقرر عمل میں لایا جائے اور ان کی خدمات حاصل کی جائے۔ ذرائع کے مطابق مئیر جی ایچ ایم سی نے بلدیہ کے جنرل باڈی اجلاس کے دوران اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کارپوریٹرس پر کنٹرول کیلئے 90تا95 مارشلس کے تقرر کا منصوبہ تیار کیا ہے اور ان تقررات کے سلسلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مئیر کے چیمبر میں کی گئی توڑ پھوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اسمبلی کے طرز پر اجلاس کے دوران ایوان میں مارشلس کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا اور جی ایچ ایم سی کے شعبہ ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ اینڈ ویجلنس ‘ ڈساسٹر مینجمنٹ کے ذریعہ تقررات عمل میں لائے جائیں گے اور ان تقررات کا عمل ایجنسی کے ذریعہ مکمل کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ بلدی اجلاس میں ان افراد سے مارشلس کے طور پر خدمات حاصل کی جائیں گی جبکہ اجلاس نہ ہونے کی صورت میں ان افراد کو تالابوں کے تحفظ کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں خدمات انجام دینے کے لئے ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد پر موجود قرض کے بوجھ کو کم کرنے کے بجائے مارشلس کی ضرورت کا اظہار کرتے ہوئے بلدیہ پر عائد کئے جانے والے اس بوجھ کی دیانتدار عہدیداروں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہیکہ اگر اجلاس کے دوران مارشلس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو ایسی صورت میں جس طرح ریاستی اسمبلی میں محکمہ پولیس کے عہدیداروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
اسی طرح سے جی ایچ ایم سی اجلاس کے دوران سٹی پولیس کے عہدیداروں کی خدمات کے حصول کے سلسلہ میں اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر کئے جانے والے ان تقررات اور ان افراد کے راست مئیر جی ایچ ایم سی کے نگرانی میں خدمات انجام دینے کے فیصلہ سے بلدی شعبہ جات کا نظام درہم برہم ہونے کے بھی خدشات ہیں۔م