جی ایچ ایم سی کے لیے بجٹ مایوس کن

   

ایس آر ڈی پی کیلئے حاصل کردہ 2995 کروڑ کے قرض پر ماہانہ 20 کروڑ کا سود
حیدرآباد :۔ بجٹ سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو مایوسی ہوئی ہے ۔ سڑکوں کی ترقی و توسیع ، تعمیرات ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے شہر میں بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ مگر اس سال حکومت کی جانب سے جی ایچ ایم سی کو معمولی بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ آئندہ مالیاتی سال کے لیے جی ایچ ایم سی کو صرف 25.20 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میں کئی اہم پراجکٹس پر کام چل رہا ہے ۔ لیکن اس کی مناسبت سے فنڈز مختص نہیں کئے گئے ۔ ایس آر ڈی پی پراجکٹ کی خاطر جی ایچ ایم سی نے ابھی تک 2995 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ جس میں 1600 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ اس قرض پر ماہانہ 20 کروڑ روپئے کا سود ادا کیا جارہا ہے ۔ سود کی شرح میں مزید اضافہ کا امکان ہے ۔ آمدنی کا جائزہ لیں تو قرض کے بوجھ میں مزید اضافہ متوقع ہے ۔ جائیداد ٹیکس کے ذریعہ 1400 کروڑ عمارتوں کی تعمیراتی منظوریوں سے 800 تا 900 کروڑ روپئے تک جی ایچ ایم سی کو آمدنی ہوتی ہے ۔ یہ دو ہی آمدنی کے اہم ذرائع ہیں ۔ دیگر آمدنی برائے نام ہے ۔ مختلف ٹیکس کی شکل میں حکومت سے جاری ہونے والے فنڈز مکمل جاری نہیں ہورہے ہیں ۔ حکومت نے گریٹر حیدرآباد کی ترقی اور مختلف پراجکٹس کے لیے خصوصی فنڈز کے تحت 1962 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ اہم کاموں کے لیے اس فنڈز کو استعمال کرنے کی مختلف محکمہ جات کے شعبوں کو سہولت فراہم کی ہے ۔ یہ فنڈز خصوصی کھاتے میں موجود رہیں گے ۔ ضرورت کے مطابق حکومت کی منظوری سے یہ فنڈز استعمال کرسکتے ہیں ۔۔