جی ایچ ایم سی کے لیے مختص رقومات کی عدم اجرائی

   

ادارہ مالی مسائل کا شکار ، حکومت کی فوری توجہ ضروری
حیدرآباد۔6جولائی (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے مالی سال 2014-15کے بعد سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے لئے ریاستی بجٹ میں مختص کردہ مکمل رقم ادا نہیں کی گئی ۔2014 سے 2021کے درمیان ریاستی حکومت کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو محض31 کروڑ 36لاکھ روپئے جاری کئے گئے ہیں جبکہ اس مدت کے دوران مجموعی اعتبار سے 116کروڑ سے زائد کی رقم جی ایچ ایم سی کیلئے مختص کی جاچکی ہے لیکن اس میں نصف رقومات کی اجرائی بھی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ سال 2014-15کے دوران ریاستی حکومت کے بجٹ میں جی ایچ ایم سی کے لئے 20 کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی گئی تھی اور 20کروڑ روپئے جاری کئے گئے لیکن اس کے بعد مالی سال 2015-16 کے دوران22کروڑ روپئے کی تخصیص عمل میں لائی گئی تھی جس میں 11 کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ اسی طرح مالی سال 2016-17 کے دوران 24کروڑ 20 لاکھ کی تخصیص کا فیصلہ کیا گیا تھا اورتلنگانہ کے بجٹ سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو یہ رقم حاصل ہونی تھی لیکن اس میں ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ مالی سال 2017-18 کے دوران ریاستی حکومت نے بجٹ میں 29کروڑ 4لاکھ کی تخصیص کا اعلان کیا تھا اور اس میں صرف 4کروڑ 36لاکھ روپئے جی ایچ ایم سی کو جاری کئے گئے ۔مالی سال 2018-19 بجٹ میں ریاستی حکومت نے جی ایچ ایم سی کیلئے 31کروڑ 94لاکھ مختص کرنے کا اعلا ن کیا تھا لیکن اس کے بعد مالی سال کے اختتام تک بھی اس میں ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ۔2019-20 کے ریاستی بجٹ میں حکومت تلنگانہ نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کیلئے 10 کروڑ روپئے مختص کئے تھے لیکن اس میں بھی ایک روپیہ جاری نہیں کیا گیا اسی طرح مالی سال 2020-21 میں بھی ریاستی حکومت کی جانب سے 7 کروڑ 50لاکھ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اس میں بھی کوئی رقم اب تک جاری نہیں کی گئی ۔ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کیلئے مختص کی جانے والی رقومات کی عدم اجرائی بلدی عہدیداروں کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے اور متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود یہ رقومات جاری نہ کئے جانے اور بلدیہ کی آمدنی کو بالواسطہ حکومت کی جانب سے حاصل کرلئے جانے کی وجہ سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد معاشی بدحالی کا شکار ہوچکی ہے جبکہ ریاست تلنگانہ کی مجموعی آمدنی کا جائزہ لیا جائے تو حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود سے 70فیصد آمدنی ہوتی ہے جبکہ مابقی دیگر تمام اضلاع سے 30فیصد آمدنی ریاست کو حاصل ہورہی ہے۔