نئی دہلی، 28 جنوری (یواین آئی) پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے خطاب کے دوران جیسے ہی وکست بھارت ”جی رام جی” قانون کا ذکر آیا، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور قانون کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل بھی جیسے ہی صدرِ جمہوریہ نے اپنا خطاب شروع کیا، اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً کھڑے ہو کر شور شرابا کیا۔ تاہم جب خطاب میں وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے ، بنکم چندر چٹوپادھیائے ، سردار پٹیل، بھگوان برسا منڈا اور گرو تیغ بہادر کی قربانیوں کا ذکر آیا تو اپوزیشن اراکین خاموش ہو گئے ۔بعد ازاں جب صدرِ جمہوریہ نے خطاب میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ منظور کیے گئے وکست بھارت ”جی رام جی” قانون کو حکومت کی کامیابی کے طور پر بیان کیا تو حکمراں جماعت کے اراکین نے میزیں بجا کر اس کی تائید کی، جبکہ اپوزیشن کے اراکین ایک بار پھر اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر مخالفت میں نعرے لگانے لگے اور قانون کی واپسی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن ملکارجن کھڑگے ، لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو سمیت تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کھڑے ہو کر ”جی رام جی” قانون کی مخالفت کرتے رہے ۔
صدرِ جمہوریہ ایک لمحے کے لیے رُکیں، تاہم انہوں نے خلل پر توجہ دیے بغیر اپنا خطاب جاری رکھا۔