چیف منسٹر کے 16 اگست کو حضور آباد کے دورہ کے موقع پر اعلان متوقع
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کی جانب سے اسمبلی حلقہ حضور آباد کے لیے ٹی آر ایس طلبہ تنظیم کے ریاستی صدر جی سرینواس یادو کو امیدوار بنانے کا قوی امکان ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اس معاملے میں متحدہ ضلع کریم نگر کے ٹی آر ایس قائدین کو اشارے دے دئیے ہیں ۔ چیف منسٹر 16 اگست کو دلت بندھو اسکیم کے پائیلٹ پراجکٹ کا اسمبلی حلقہ حضور آباد سے آغاز کررہے ہیں ۔ اسی دن جی سرینواس یادو کو امیدوار بنانے کا سرکاری طور پر اعلان کرنے کا قوی امکان ہے اور امیدوار کا اعلان ہوتے ہی ٹی آر ایس کی جانب سے انتخابی تیاریوں میں شدت پیدا کردینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کے قائد کوشک ریڈی کو حضور آباد سے پہلے ٹی آر ایس امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا تھا جنہوں نے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں ایٹالہ راجندر کے خلاف 60 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے ۔ تاہم ٹی آر ایس میں شامل ہونے سے قبل کوشک ریڈی کا ٹیلی فون آڈیو ٹیپ افشاں ہوگیا جس میں کوشک ریڈی نے بتایا تھا کہ وہ ہی ٹی آر ایس امیدوار ہے جس کے بعد کانگریس نے انہیں پارٹی سے برطرف کردیا تھا ۔ اس کے علاوہ سوشیل میڈیا میں انہیں مخالف تلنگانہ کی حیثیت سے بھی پیش کیا گیا تلنگانہ تحریک کے دوران مانو کوٹہ میں تلنگانہ حامیوں کے خلاف پتھراؤ کے پروگرام میں کوشک ریڈی کے شامل ہونے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد چیف منسٹر نے کوشک ریڈی کو امیدوار بنانے کے بجائے انہیں گورنر کوٹہ میں کونسل کارکن بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایٹالہ راجندر سے مقابلہ کے لیے بی سی طبقہ کے نوجوان قائد جی سرینواس یادو کو امیدوار بنانے کا تقریبا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر کی جانب سے بی سی کمیشن کے سابق رکن کرشنا موہن کا نام بھی زیر غور ہے مگر پارٹی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر جی سرینواس یادو کے نام پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ سدی پیٹ میں ہریش راؤ کے ایک پروگرام میں بھی جی سرینواس یادو نے شرکت کی ہے ۔ لہذا کرشنا موہن کو کسی کارپوریشن کا صدر نشین بنانے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔۔