جی پی ایس پلس کے تحت یورپی پارلیمنٹ کی پاکستان کیلئے تجارتی رعایت منظور

   

ووٹنگ کے بعد تجارتی رعایت میں 31 ڈسمبر 2027ء تک توسیع
برسلز: یورپی پارلیمنٹ کے ممبران نے جی پی ایس پلس کے تحت پاکستان سمیت دوسرے ممالک کے حق میں ووٹ دے دیا ہے جس سے اس تجارتی رعایت میں چار سال کیلئے توسیع کر دی گئی ہے۔یورپی یونین نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کیلئے مزید چار سال کیلئے خصوصی تجارتی مراعات میں توسیع کی منظوری دیدی گئی ہے۔ یہ اسکیم ترقی پذیر ممالک کی پائیدار ترقی اور اچھی حکمرانی کو آگے بڑھانے کیلئے خصوصی ترغیب دینے کیلئے متعارف کروائی گئی تھی۔اس کے تحت اہل ممالک کو انسانی حقوق، بالخصوص مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور گڈ گورننس سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یورپی یونین درآمدات کی دو تہائی سے زائد ٹیرف لائنوں پر ڈیوٹی کو صفر کر دیتی ہے۔اس تجارتی رعایت سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2021 تک 78 فیصد اضافہ سے تجارت بڑھ کر 12.3 بلین یورو ہوگئی جوکہ سال 2013 میں صرف 6.9 بلین یورو تھی۔یورپی یونین کی جانب سے تجارتی ترجیحات بدولت پاکستان کے عالمی معیشت منسلک سے ہونے اور پائدار ترقی کے حصول میں مدد ملی۔ خاص طور پر یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں تین چوتھائی اضافہ ممکن ہوا۔اس منظوری سے قبل جی ایس پی ریگولیشن کی میعاد 2023 کے آخر میں ختم ہونے والی تھی، اور یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی کونسل کے درمیان جنوری 2023 سے نئے قواعد قائم کرنے کیلئے مذاکرات جاری تھے۔ جون میں بات چیت روک دی گئی تھی کیونکہ پارلیمنٹ اور رکن ممالک کی کائونسل کے موقف میں پائے جانے والے فرق کو پر نہیں کیا جا سکا۔ تاہم اب ووٹنگ کے بعد موجودہ قواعد کو 31 دسمبر 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے ہیڈی ہوٹالا جو کہ ان معاملات پر گہری نظر رکھتی ہیں نے کہا کہ گفت شنید کے عمل کے طول کھینچنے کے بعد معاملات کو تیزی اور مؤثر طریقے سے نمٹنے کے کی کوشش کی گئی اور خاص طور پر یورپی پارلیمنٹ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ وہ اس تجارتی سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں کو مایوس نہیں ہونے دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ رول اوور بدقسمتی سے کونسل اور پارلیمنٹ کے درمیان بات چیت میں تعطل کا نتیجہ تھا۔ مذاکرات کے دوران مختلف مسائل پر کسی معاہدے تک نہ پہنچنے میں ایک وجہ ترجیحات کے تعین اور نقل مکانی کے حوالے سے ذمہ داری کے درمیان ربط پیدا کرنا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ تجارتی رکاوٹیں پیدا کیے بغیر چاول پیدا کرنے والوں کی کے مفاد کا تحفظ بھی تھا۔پہلے معاملے پر ہوٹالا نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کا موقف اس قسم کی مائیگریشن پالیسی اقدامات کو شامل کرنے کے خلاف تھا کیونکہ یہ ایک تجارتی اور ترقیاتی پالیسی سے تعلق نہیں رکھتا تھا اور اس کے ترقی پذیر ممالک کے 2 ارب لوگوں کو فائدہ پہنچتا تھا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، اور اسے جلد از جلد ختم کرنا ضروری ہے۔ اب یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ پارلیمنٹ اور ہسپانوی ایوان صدر اس جائزے کو حقیقت بنائیں۔ تاہم، اس کیلئے کائونسل کو دوبارہ داخلوں کے سوال پر اپنے طرز عمل میں تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ ہمیں جی ایس پی کو ترقیاتی عمل میں بڑھاوا دینے کیلئے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ رول اوور کی تجویز 2023 کے آخر میں ایک بند گلی میں جانے سے بچنے کیلئے اپنائی گئی تھی اور اس کا تعلق پاکستان کی ذمہ داریوں یا کسی دوسرے فائدہ اٹھانے والے ملک کی کارکردگی سے نہیں تھا۔