مودی حکومت کے فیصلے بھی ذمہ دار:سی پی ایم
نئی دہلی۔ سی پی ایم نے کورونا کے دور میں ملک کی خراب معاشی صورت حال پر اپنی گہری فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں 24% کی جو گراوٹ آئی ہے وہ صرف کورونا کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ مودی حکومت کے گزشتہ فیصلوں کا بھی نتیجہ ہے ۔پارٹی پولٹ بیورو نے منگل کو یہاں جاری بیان میں کہا ہے کہ جی ڈی پی میں غیرمتوقع گراوٹ دراصل نوٹ بندی اور جی ایس ٹی اور دوراندیشی کے فقدان میں لئے گئے لاک ڈاؤن کے ٖفیصلے کا ملاجلا اثر ہے ۔ پارٹی نے کہا ہے کہ معیشت کے بحران کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی قوت خرید میں مسلسل کمی آئی ہے اور گھریلو طلب میں کمی آئی ہے اس لئے یہ بحران پیدا ہوا ہے ۔اس مسئلہ کوپبلک سرمایہ کاری اورروزگار کی فراہمی کے بغیر حل نہیں کی جاسکتا ہے ۔مودی حکومت نیولبرل پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعہ نجی سرمایہ کاری اور انہیں ٹیکس میں چھوٹ کی سہولت دے رہی ہے اور اس طرح قومی جائیدادوں کولوٹنے کا موقع دے رہی ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کو نقد پیسے دے ۔ پبلک سرمایہ کاری میں اضافہ کرے اور مفت کھانے پینے کی اشیاء مہیا کرائے تبھی اس صورت حال میں عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔