واشنگٹن :امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کو اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ رواں ہفتے ہندوستان میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے جب کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کا خواہاں ہے۔ میڈیا کے مطابق یہ پوچھے جانے پر کہ چینی صدر مبینہ طور پر نئی دہلی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے جس پر جو بائیڈن نے میڈیا سے کہا کہ مجھے مایوسی ہوئی لیکن میں ان سے ملنے جا رہا ہوں۔امریکہ اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں حائل مسائل کی طویل فہرست ہے، ان مسائل میں تجارتی تنازعات سے لے کر تائیوان کے مستقبل سمیت بحیرہ جنوبی چین میں چین کی موجودگی تک جیسے معاملات شامل ہیں۔امریکہ حالیہ مہینوں میں مسلسل کشیدگی کے باوجود مزید موثر ورکنگ ریلیشن شپ بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اس نے اس سلسلے میں اپنے سینیئر حکام کو چین کے دورے پر بھیجا۔جمعرات کو یورپی یونین کے سینئر عہدیدار نے کہا تھا کہ شی جنگ پنگ جی 20 میں شرکت نہیں کریں گے، ان کی نمائندگی وزیر اعظم لی کیانگ کریں گے۔شی جن پنگ اور وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ میں برکس گروپ سربراہی اجلاس میں بالمشافہ غیر معمولی بات چیت کی لیکن اس کے باوجود ایشیا کے 2 بڑے ملکوں کے درمیان تناؤ اور کشیدگی برقرار ہے۔دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کے درمیان تعلقات 2020 میں ہمالیایہ کے سرحدی علاقے میں جھڑپ کے بعد سے سخت جمود کا شکار ہیں جب کہ ان جھڑپوں کے دوران 20 ہندوستانی فوجی اور کم از کم 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔چینی صدر کی عدم شرکت کی خبر سامنے آنے سے قبل یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ جی 20 اجلاس میں چینی صدر کی اپنے امریکی ہم منصب جوبائیڈن سے ملاقات ہو سکتی ہے، امریکی صدر نے اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔شی جن پنگ اور جو بائیڈن کی ملاقات آخری بار اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں ہوئی تھی جہاں دونوں نے انڈونیشیا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔یاد رہے کہ چین کے علاوہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ نئی دہلی میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، روسی صدر کی جگہ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اجلاس میں شرکت کریں گے۔