لندن : دنیا کے 7 امیرتر ممالک یوکرائن کے تنازعہ پر روس کے خلاف ایک مشترکہ موقف اپنانے کے لیے جمع ہوئے۔ میزبان ملک برطانیہ نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی سیون ممالک کو روس کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔ جی سیون ممالک میں امریکہ ، فرانس، اٹلی، جرمنی، جاپان، کینیڈا اور برطانیہ شامل ہیں۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرائن میں فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ لز ٹرس نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرائن پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ روس نے مبینہ طور پر یوکرائن کی سرحدوں کے قریب فوجی موجودگی بڑھا رکھی ہے۔ تاہم ماسکو نے ان الزامات کو رد کر دیا ہے۔ لز ٹرس نے کہا کہ آزاد جمہوری ممالک کو روسی گیس اور امداد پر اپنا انحصار کرنا چاہیے۔ تاہم روس ایسے تمام تر الزامات مسترد کرتا ہے کہ وہ یوکرائن پر حملے کی منصوبہ بندی میں ہے۔ یوکرائن اور مغربی دفاعی اتحادناٹوکے علاوہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی ایسے خطرات کا اظہار کر چکے ہیں کہ آئندہ برس کے اوائل میں روس ایک بار پھر یوکرائن پر حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے حال ہی میں کہا تھا کہ دراصل مغربی طاقتیں یوکرائن میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کی خاطر بہانے تلاش کر رہی ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برداری کی کوشش ہے کہ روس کو عسکری طاقت کی نمایش سے باز رکھا جائے۔ انہوں نے ہفتے کے روز 7امیر ترین صنعتی ممالک کے وزرائے خارجہ کو لیور پول میں خوش آمدید کہا اور صحافیوں کو بتایا کہ اس اجلاس میں کووڈ کی عالمی وبا، بلقان اور یوکرائن کے بحران کے علاوہ افغانستان کی صورتحال پر زیادہ توجہ رہنے کی توقع ہے۔ جی سیون کے وزرائے خارجہ کی اس اہم اجلاس میں کئی دیگر عالمی اور علاقائی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔