جعلی ڈگریوں کے استعمال کے واقعات پر حکام کا فیصلہ، 19 اکتوبر سے تنقیح
حیدرآباد ۔22 ستمبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے انجنیئرنگ کالجس میں بی ۔ٹیک اور ایم ۔ٹیک کی تعلیم کیلئے پی ایچ ڈی اساتذہ اور ماہرین کے لزوم کے عائد کئے جانے کے بعد گذشتہ ماہ فرضی اور جعلی پی ایچ ڈی اسنادات کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد جواہر لعل نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی اسنادات جمع کروانے کی تمام اساتذہ کو ہدایات جاری کی ہے اور اب جے این ٹی یو کی جانب سے پی ایچ ڈی اساتذہ جو خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے اسنادات کی جانچ کی جائے گی۔ جے این ٹی یو کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں بتایاجاتا ہے کہ یونیورسٹی نے تمام کالجس کے لئے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انہیں ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان کے پاس خدمات انجام دینے والے پی ایچ ڈی اساتذہ کی مکمل تفصیلات معہ اسنادات جمع کروائیں اور ان اساتذہ کی پی یچ ڈی کی سند کی اصل 19 اکٹوبر سے قبل یونیورسٹی میں تنقیح کے لئے جمع کردی جائے تاکہ یونیورسٹی کی جانب سے تحقیق و تنقیح کے عمل کو مکمل کیا جاسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے انجنئیرنگ کالجس میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے مضامین کے ماہرین اور پی ایچ ڈی کے حامل اساتذہ کے تقرر کی پابندی عائد کئے جانے کے بعد بیشتر کالجس میں پی ایچ ڈی اساتذہ کے تقررات عمل میں لائے گئے
لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران پی ایچ ڈی کی فرضی اور جعلی ڈگریوں کے منظر عام پر آنے کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اسے دیکھتے ہوئے جے این ٹی یو نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام اساتذہ جو کہ پی ایچ ڈی کی حیثیت سے اپنے اندراج کرواتے ہوئے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی ڈگریوں کی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی طرح کی دھاندلیوں کو روکا جاسکے ۔ جے این ٹی یو کے ذرائع کے مطابق اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی ریاست کے بیشتر کالجس کی جانب سے اس پر اعتراض کیا جانے لگا ہے اور کہا جار ہاہے کہ جے این ٹی یو اساتذہ کی توہین کر رہی ہے اور جن اساتذہ کو پی ایچ ڈی کے مضامین کے ماہرین کی حیثیت سے کالجس نے مقرر کیا ہے ان کے تمام دستاویزات کی نقولات جے این ٹی یو میں جمع کروائی جا چکی ہیں لیکن اب جس طرح سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جے این ٹی یو ان تمام اساتذہ کو جعلی سند رکھنے والے تصور کر رہی ہے جو انجنیئرنگ کالجس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جے این ٹی یو کے بعض ذمہ داروں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے موصول ہونے والے احکامات کے بعد ہی یونیورسٹی حکام کی جانب سے اعلامیہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی لئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ جے این ٹی یو نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے۔