جے این یو اسٹوڈنٹس پر لاٹھی چارج ،اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے : اپوزیشن

   

امیر بی جے پی لیڈر غریب جے این یو طلبہ کی حمایت کیوں کریں گے :سماج وادی
احتجاجی طلبہ کے خلاف مختلف دفعات کے تحت دو ایف آئی آر درج

نئی دہلی،19نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسٹوڈنٹس پر دہلی پولیس کے لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اس کی اعلی سطحی تفتیش کرنے اور یونیورسٹی کی فیس میں اضافہ واپس لینے کی مانگ کی۔کانگریس کے ٹی این پرتاپن نے منگل کو وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جے این یو کی فیس بڑھانے کا فیصلہ واپس لیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا‘‘حکومت تمام اعلی تعلیمی اداروں کو برباد کر رہی ہے ۔ میں فیس میں اضافہ واپس لینے کی مانگ کرتا ہوں۔ کل اسٹوڈنٹس پر پولیس کے مظالم کی اعلی سطحی جانچ پڑتال ہونی چاہئے ’’۔بی ایس پی کے دانش علی نے بھی مطالبہ کیا کہ جے این یو کے طلبا پر پیر کو ہوئے لاٹھی چارج کی اعلی سطحی تفتیش ہونی چاہئے ۔ اس پر برسراقتدار پارٹی کے رکن کھڑے ہوکران کی مخالفت کرنے لگے ۔انہوں نے کسی اور موضوع پر بولنے کی اجازت مانگی تھی، لہذا اسپیکر نے انہیں آگے بولنے کا موقع نہیں دیا۔ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اسٹوڈنٹس کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جے این یو میں غریب گھرانوں کے بچے پڑھنے آتے ہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ٹیوشن اور ہاسٹل فیس بڑھا دی ہے ۔ اس سے غریب بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول میں رکاوٹ آئے گی۔اسی دوران سماج وادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادو نے فیس میں اضافہ کے خلاف پرامن مظاہرہ کررہے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پر پیر کے روز پولیس کی لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی طلبہ کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ بھی احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوگی۔مسٹر یادو نے آج پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا کہ جے این یو ملک کے سب سے بڑی اور باوقار یونیورسٹیوں میں شامل ہے جہاں مختلف طرح کی فیس اتنی بڑھادی گئی ہے جنہیں غریب طلبہ کے لئے برداشت کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس کے خلاف میں پرامن مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس نے بے رحمی سے لاٹھی چارج کیا جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سے وابستہ افراد امیر ہیں جنہیں غریب طلبہ کی پریشانیوں کا احساس نہیں ہے اس لئے وہ غریب طلبہ کے حق کی آواز نہ اٹھاکر ان کے ساتھ ہونے والی بربریت کی حمایت کررہے ہیں۔

یادونے کہا کہ اس سنگین مسئلہ کو پارلیمنٹ میں زور دار طریقے سے اٹھایا گیا ہے اور اگر جے این یو کے طلبہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو پھر اس معاملے کو راجیہ سبھا میں اٹھایا جائے گا۔خیال رہے کہ جے این یو کے طلبہ کے مظاہرے کے دوران ان پر کی گئی لاٹھی چارج کے خلاف راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ ہوا جس سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔دوسری طرف دہلی سے موصولہ اطلاع کے مطابق جے این یو کے ہڑتالی طلبہ کے خلاف دہلی پولیس نے دو ایف آئی آر درج کی ہے۔ سینئر پولیس آفیسر نے آج یہ بات بتائی۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس اتل کمار ٹھاکر نے بتایا کہ ان ہڑتالی طلبہ کے خلاف آئی پی سی کے مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں جن پر کارروائی جارہی ہے جبکہ جے این یو کے یونین لیڈروں نے وزارت انسانی وسائل سے ملاقات کرتے ہوئے ہڑتالی طلبہ کے خلاف کوئی بھی انتظامی اور قانونی کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جے این یو ایس یو کے صدر ایس گھوش نے آج ایچ آر ڈی منسٹر سے ملاقات کی اور اسے درخواست کیا ہیکہ وہ ان طلبہ کے خلاف کوئی بھی قانونی کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کو ای میل کے ذریعہ نوٹسیں موصول ہورہی ہیں جبکہ ہمارا احتجاج ایک مقصد کے تحت تھا کہ طلبہ جرمانے کے طور پر ایک روپیہ بھی ادا نہیں کریں گے۔ جے این یو ایس یو جس کی قیادت میں طلبہ ہاسٹل فیس میں اضافہ کے خلاف پچھلے ایک ہفتہ سے احتجاج کررہے ہیں، نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات مان نہیں لئے جاتے تب تک احتجاج بدستور جاری رہے گا۔