لکھنؤ6 جنوری(سیاست ڈاٹ کام )اتوار کی رات جواہر لال یونیورسٹی میں نقاب پوش گینگ کی جانب سے طلبہ و اساتذہ پر لاٹھی ڈنڈوں سے کئے گئے حملے کے بعد اترپردیش میں انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کردیا ہے ۔نیز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں احتیاط کے طور پر اضافی سیکورٹی لگائی گئی ہے ۔ایرانی میجر جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکہ کے میزائل حملے میں ہلاکت، پاکستان میں ننکانا صاحب گرودوارہ پر حملے کے خلاف اترپردیش میں کئی مقامات پر احتجاج ہورہے ہیں تو وہیں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور اس میں معصوم نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد عام شہریوں میں پھیلی بے چینی و خفگی ابھی تک پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی ہے ۔سینئر پولیس افسران نے اضلاع کے پولیس سربراہوں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کرنے کے ساتھ تعلیمی اداروں کے کیمپسز میں طلبہ کی جانب سے ہونے والی ہر سرگرمی پرگہری نظر رکھنے کو کہا گیا ہے ۔قابل ذکرہے کہ اترپردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ دیگر تعلیمی ادارے پیر سے کھل رہے تھے ۔ریاست میں متعدد تعلیمی ادارے ہیں جہاں پر دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کی یک طرفہ کاروائی ،لاٹھی چارج،آنسو گیس کے گولے اور فائرنگ کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بطور خاص جامعہ کے طلبہ کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کئے تھے جس کے پاداش میں پولیس نے مبینہ طو رپر کیمپس میں گھس کر طلبہ کے خلاف کاروائی کی۔الہ آباد یونیورسٹی نے بھی طلبہ کے اشتعال و خفگی سے دوچار ہے ۔ جہاں یونیورسٹی وائس چانسلر نے چار دن قبل استعفی دے ہے تو وہیں پراکٹر اور رابطہ عامہ افسرنے بھی اپنے اپنے عہدے سے استعفی دیے دیا ہے ۔ایک سینئر پولیس افسر نے پیر کو انکشاف کیا ‘‘ریاست میں طبقاتی سیاست نے خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے ۔ اس کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں۔تقریبا تمام اضلاع میں ہم مختلف مسائل پر عوامی بے چینی سے نبردآزما ہیں۔سی اے اے کے ضمنی میں عوامی خفگی و اشتعال ابھی بھی قائم ہے ۔شیعہ اور سکھ ایرانی میجر جنرل کی ہلاکت اور پاکستان میں ننکانہ صاحب گرودوارے پر حملے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔تعلیمی اداروں میں طلبہ بھی سی اے اے مخالف میں ہونے والے احتجاج کے خلاف کاروائی سے نالاں ہیں۔بلاشبہ اس وقت حالات غیر مستحکم ہیں‘‘۔یوپی ڈی جی پی او پی سنگھ نے کہا‘‘ ریاست میں بے ہنگم حالات کے پیش نظر ہم نے تمام اضلاع کے پولیس سربراہان کو ہائی الرٹ پر رہنے کو کہا ہے اور خفیہ ذرائع سے موصول ہونے والے انٹ پٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔