جے این یو تشدد میں بائیں بازو طلبہ ہی ملوث: جاؤڈیکر

,

   

اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آشی گھوش نے حملہ کرنے والے ہجوم کی قیادت کی، دہلی پولیس کا دعویٰ۔ ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
نئی دہلی 10 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے کہاکہ 5 جنوری کو جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں ہوئے تشدد کی پولیس تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اِس تشدد میں بائیں بازو شعبہ کے طلبہ ملوث ہیں۔ اِس واقعہ میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آئش گھوش نے حملہ آوروں کی قیادت کی۔ جاؤڈیکر نے جو آنے والے دہلی اسمبلی انتخابات کے بی جے پی انچارج بھی ہیں، کہاکہ پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے اہم ثبوت اکٹھا کئے ہیں اور پتہ چلایا ہے کہ اِس تشدد میں جے این یو کے طلبہ ہی ملوث ہیں۔ اِس تشدد کا مقصد اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کو بدنام کرنا ہے۔ اُنھوں نے کانگریس، سی پی آئی اور سی پی آئی ایم پر تنقید کی اور کہاکہ اِن پارٹیوں نے اپنے مفادات کے لئے طلبہ کا استعمال کیا ہے کیوں کہ لوک سبھا انتخابات میں ناکامی کے بعد یہ پارٹیاں مایوس ہوچکی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے قبل ازیں بی جے پی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ تشدد کو بھڑکانے کا کام کررہی ہے۔ انتخابات سے قبل ایسے مسائل اُٹھاکر تشدد برپا کیا جارہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے کہاکہ بی جے پی تشدد کے واقعات کے ذریعہ انتخابات سے قبل رائے دہندوں کو گمراہ کررہی ہے۔ اِسی دوران دہلی پولیس نے دعویٰ کیاکہ جے این یو صدر کو تشدد کرتے ہوئے ویڈیو میں دیکھا ہے۔ پولیس نے اپنی تحقیقات کے بعد 9 افراد کی نشاندہی کی ہے جو تشدد میں ملوث ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی پی کرائم برانچ جوائے ٹرکے نے کہاکہ طلبہ کی بڑی تعداد یکم جنوری سے 5 جنوری کے لئے سرمائی سمسٹر کے لئے اپنے نام رجسٹر کروانا چاہتے تھے لیکن بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلبہ یونینوں نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا۔ جس کے بعد جے این یو ایس کے لیڈروں نے ہاسٹل میں گھس کر خصوصی کمروں کو نشانہ بنایا اور ہاسٹل میں مقیم طلبہ پر حملے کئے۔ تاہم گھوش بھی اِس حملہ میں زخمی ہوئیں۔ اِسی دوران مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل جاؤڈیکر نے جے این یو مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سلسلہ وار اجلاس منعقد کئے۔ وائس چانسلر، طلبہ یونین کے قائدین سے بھی بات چیت کی۔ بعدازاں جے این یو میں فیس میں اضافہ کے مسئلہ پر یو جی سی سے بھی بات چیت کی۔ اُنھوں نے احتجاجی طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج ختم کریں۔ اِن کے بنیادی مطالبہ کو قبول کیا جارہا ہے۔ یونیورسٹی نے فیس ریویژن کے مطالبہ کو تسلیم کرلیا ہے۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کے عہدیداروں نے کہاکہ طلبہ یونین نے یوٹیلٹی اور سرویس چارجس ادا نہیں کئے ہیں اور یہ رقم یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے ادا کی جائے گی۔ تاہم وزارت فروغ انسانی وسائل نے یونیورسٹی طلبہ کے دیگر مطالبات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔