جے این یو طلبہ کیخلاف کارروائی مودی حکومت کا خوف

   

Ferty9 Clinic

اکھلیش یادو
جے این یو کا شمار صرف ہندوستان ہی نہیں دنیا کی باوقار یونیورسٹیز میں ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی کو جمہوری اقدار کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران جے این یو میں طلبہ نے وزیراعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کے خلاف نعرے لگائے جس پر بی جے پی قائدین اور آر ایس ایس کے طلبہ ونگ اے بی وی پی برہم ہوگئی اور یونیورسٹی حکام سے مطالبہ کیاکہ مودی ۔ شاہ جوڑی کے خلاف نعرے بلند کرنے والے طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال پھینکا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی اور آر ایس ایس کی مخالفت ملک دشمنی ہے؟ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو طلبہ کے یہ نعرے جمہوریت کے سانس لینے کی آواز ہے اور اس آواز کو بی جے پی اور آر ایس ایس قائدین اور ان کے حامی دبانا چاہتے ہیں۔ جے این یو میں مودی مخالف آر ایس ایس مخالف طلبہ کے بارے میں جو بیانات دیئے جارہے ہیں اسے ہم بلاشبہ ایک خطرناک غلط فہمی کہہ سکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکمراں بی جے پی اور اس کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کو قوم پرست قرار دے کر اور ملک و قوم سے تشبیہ دے کر گودی میڈیا حکومت کو محب وطن ہندوستانیوں کی تنقید سے بچانے کی ناپاک کوشش کررہا ہے جو اصل میں ایک دھوکہ ایک فریب ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ آر ایس ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جبکہ بی جے پی ایک سیاسی جماعت ہے اور نریندر مودی دستور کے منتخب عوام کے ایک خادم ہیں۔ اس طرح ان میں سے کوئی بھی قوم نہیں ہے۔ بہرحال جے این یو کے خلاف ماحول پھر گرمادیا گیا ہے۔ جب میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی سڑکوں سے گزر رہا ہوں تو اس بات کو اچھی طرح محسوس کرسکتا ہوں کہ ہوا نہ صرف دارالحکومت دہلی کی سردیوں کے دھویں یا کہر سے بھری ہوئی ہیں بلکہ ایک نئے میڈیا ٹرائل کے زہریلے و خطرناک دھویں سے بھی بھری ہوئی ہے۔ یونیورسٹی کے دروازوں پر پھر سے کیمرے نصب کردیئے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیاگ ٹرینڈ کررہے ہیں اور پرائم ٹائم اینکرز نے ججس کا کردار سنبھال کر اپنی عدالتیں قائم کرلی ہیں۔ فیصلے بھی سنادیئے گئے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان عناصر نے جے این یو کو ملک مخالف قرار دیا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جے این یو طلبہ پر آخر کیا الزام ہے؟ اس بارے میں آپ کو بتائیں کہ طلبہ نے وزیراعظم نریندر مودی، ان کے دست راست اور وزیرداخلہ امیت شاہ کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے خلاف نعرے لگانے کی جرأت کی۔ 2006ء کے ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے جنین کو ایک بار پھر جاری کیا گیا ہے اور ڈیجیٹل دنیا میں JNU بند کرو کی صدائیں گونج رہی ہیں لیکن اس یونیورسٹی میں تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اور ہندوستان کے آئینی وعدے پر یقین رکھنے والے ایک کارکن کی حیثیت سے میں توقف کرکے ایک بنیادی سوال پوچھنے پر مجبور ہوں۔ یہ ایسا سوال ہے جسے اس شور میں جان بوجھ کر بھلادیا گیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ مودی اور آر ایس ایس کی مخالفت کب سے ملک دشمنی ہوگئی؟ ہم اس جمہوریت میں ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ریاست اور قوم کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر اور شرارت سے دھندلادیا جارہا ہے۔ یہ سمجھنے کے لئے کہ جے این یو میں احتجاج کیوں ؟ نہ صرف قانونی ہے بلکہ گہرے حب الوطنی پر بھی ہے ہمیں سنسنی خیز سرخیوں سے ہٹ کر تاریخ، کتابوں اور یونیورسٹی کے بنیادی فلسفے کو دیکھنا چاہئے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یونیورسٹی کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ طلبہ کے غصہ کو سمجھنے کے لئے پہلے یونیورسٹی کے مقدس مقصد کو سمجھنا چاہئے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جے این یو میں طلبہ کی آزادی اور ان کے حقوق کے مخالفین (بی جے پی قائدین) اِس یونیورسٹی کے بارے میں کہتے ہیں یہ یونیورسٹی ٹیکس دہندگان کے پیسے کے طور پر پیش کرتی ہے جو تعلیم کے بجائے سیاست میں مشغول ہیں لیکن یہ نظریہ اعلیٰ تعلیم کے مقصد کی توہین ہے۔ یہ ایک آزاد معاشرہ کے لئے ضروری ہے۔ یونیورسٹی کی سیاست پر اپنے بنیادی کام میں اسکالر گورڈن جانسن ایک ایسی تعریف پیش کرتے ہیں جسے یونیورسٹی کے ہر معروف علمی کا حوالہ دیتے ہوئے ناقدین یا نقاد کو پڑھنا چاہئے۔ جانسن نے یونیورسٹی کو سماجی تنظیم کی ان مخصوص شکلوں میں سے ایک کے طور پر بیان کیا ہے جو علم کی تخلیق، دریافت، تحفظ کے واضح مقصد کے لئے تیار ہوتی ہے۔ یہ تخلیق اور علوم کی دریافت اطاعت کے ماحول میں نہیں ہوسکتی اس کے لئے نظریات کے تصادم کی ضرورت ہے۔ جانسن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے صحیح طریقہ سے کام کرنے کے لئے اسکالرس اور طلبہ کو ان لوگوں کی بے جا مداخلت سے پاک ہونا چاہئے۔ چاہے وہ صرف ان کے معاشرے کا حصہ نہ ہوں۔ مختصراً یہ کہ جے این یو ایک ایسی یونیورسٹی ہے جس کی اپنی ایک دنیا ہے، ایک ایسی پناہ گاہ جہاں سیاسی دنیا کے فوری تقاضوں کو معطل کردیا جاتا ہے تاکہ سچائی کو بلا خوف و خطر تلاش کیا جاسکے۔ جب ہم سابرمتی دھابہ پر کھڑے ہوکر آر ایس ایس کی پالیسیوں پر سوال اُٹھاتے ہیں یا جب ہم وزیرداخلہ کے ہندوستان کے ویژن پر تنقید کرتے ہیں تو ہم ملک پر حملہ نہیں کررہے ہوتے بلکہ ہم اپنا بنیادی تعلیمی فرض پورا کررہے ہیں۔ ایک اور بات اگر کوئی یونیورسٹی ملک کے طاقتور ترین افراد پر تنقید نہیں کرسکتی تو وہ علم کا مرکز نہیں بلکہ ریاست کا پروپگنڈہ مشین بن جاتی ہے۔ ہاں ایک اور اہم بات ہم آپ کو بتاتے ہیں اکثر ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ طلبہ سب سے پہلے احتجاج کیوں کرتے ہیں، وہ صرف اپنی تعلیم اور ڈگریوں کے حصول پر توجہ مرکوز کیوں نہیں کرتے۔ اس کا جواب اسکالرس جو دیتے ہیں وہ یہ کہ طلبہ سب سے پہلے احتجاج اس لئے کرتے ہیں کیوں کہ وہ مستقل میں پیش آنے والے سماجی دھماکہ اور سیاسی و معاشی بحران کے بارے میں خبردار کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں الٹ بیاچ جیسے اسکالر کوئلہ کی کان میں کانکنوں سے پہلے پرندہ کو روانہ کرنے کی مثال بھی پیش کرتے ہیں جہاں اگر پرندہ کوئلہ کی کان میں داخل ہوکر مرجاتا ہے تو اس کی موت سے کانکن یا مزدور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کوئلہ کی کان میں گیس بھری ہوئی ہے ایسے میں ان کا کوئلہ کی کان میں داخل ہونا خطرہ سے خالی نہیں۔ اسی طرح جب جے این یو کے طلبہ مودی حکومت کی معاشی و خارجہ پالیسیوں، آر ایس ایس کی فرقہ وارانہ پالیسیوں، اس کی فرقہ پرستانہ بیان بازی اور وزارت داخلہ کی کارروائیوں کے خلاف نعرے لگاتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ ہمیں ملک کی بڑی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی زہریلی فضاء سے خبردار کررہے ہیں۔ آپ طلبہ کی آواز دبانا چاہتے ہیں، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک بڑی تبدیلی اور بڑے انقلاب کی نقیب ہوتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہمارے وطن عزیز ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے طلبہ کو قوم کا اثاثہ اور ملک و قوم کا ضمیر قرار دیا تھا۔ مثال کے طور پر جب ہم ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو طلبہ کے مظاہروں کو ملک دشمنی کہنا ستم ظریقی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت یہ فراموش کرگئی کہ آج وہ جن آزادیوں کا مزہ لوٹ رہی ہے باالفاظ دیگر حکمرانی اور قانون سازی کرنے کی اسے جو آزادی حاصل ہے وہ طلبہ کی وجہ سے حاصل ہوئی جنھوں نے انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے آواز اُٹھائی۔ اُس وقت بھی انگریزوں نے یہی کہا تھا کہ طلبہ قانون کی خلاف ورزی کا ارتکاب کررہے ہیں۔ جدید ہند کے معمار پنڈت جواہر لال نہرو طلبہ کی سیاست کو آج کی طرح شکوک و شبہات کی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے، وہ اسے ہندوستان کی تحریک آزادی کے لئے ایک اخلاقی اور انقلابی قوت سمجھتے تھے۔ اُن کے خیال میں طلبہ خود میں قوم کا ضمیر اور ہمت و جرأت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اس طرح کے خیالات کا اظہار 1936ء میں ہندوستان کی پہلی طلبہ تنظیم AISF کے آغاز کے موقع پر کیا لیکن مودی حکومت نے اسے فراموش کردیا۔