جے این یو وائس چانسلر کی برطرفی اور واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ

,

   

l کیمپس میں سخت سکیورٹی ۔ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج
l طلبا یونین صدر آشی گھوش اور دیگر زخمی ہاسپٹل سے ڈسچارج

نئی دہلی ۔6 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کل رات نقاب پوش غنڈوں کی ہنگامہ آرائی کی بعد حالات اب بھی کشیدہ ہیں ۔ جواہر لال نہرو ٹیچرس اسوسی ایشن نے نقاب پوش مسلح ہجوم کی جانب سے طلباء اور فیکلٹی ممبرس پر حملہ کے بعد وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ اسوسی ایشن نے اس واقعہ کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ۔ پروفیسر سنگیتا بہادری نے بتایا کہ ان کی ساتھی پروفیسر سچترا سین کے سرپر گہرے زخم ہیں اور وہ میڈیا سے بات کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے تین ساتھی پروفیسرس کے ساتھ بس اسٹانڈ کے قریب کھڑی تھیں کہ تقریباً 50 افراد پر مشتمل نقاب پوش مسلح گروہ ان کے قریب آیا اور سنگباری کے ساتھ ان سے مارپیٹ شروع کردی ۔ انھوں نے بتایا کہ ہجوم نے انھیں گھیرکر پیروں پر مارنا شروع کردیا ۔ پروفیسر بہادری کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی نشانہ نہیں تھے لیکن کیمپس میں ان پر بھی حملہ کیا گیا ۔ تقریباً دو گھنٹوں تک ہنگامہ آرائی جاری رہی جس میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کی صدر آشی گھوش کے بشمول 28 افراد زخمی ہوگئے ۔ عینی شاہدین نے الزام عائد کیا کہ کیمپس میں تشدد اور طلباء و پروفیسرس پر حملہ کے مسئلہ پر یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کا اجلاس ہورہا تھا کہ حملہ آور کیمپس میں داخل ہوگئے اور حملہ کیاگیا ۔ تین ہاسٹلس میں بھی ہجوم داخل ہوگیا ۔ مختلف ٹی وی چیانلس نے اس واقعہ کا فوٹیج دکھایا ہے جس میں نقاب پوش حملہ آور ہاتھوں میں ہاکی اسٹکس اور سلاخیں لیکر عمارت کے اطراف گھومتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس واقعہ کے لئے بائیں بازو کی حمایتی جے این یو ایس یو اور آر ایس ایس کی حامی اے بی وی پی ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ ٹیچرس اسوسی ایشن کے سابق صدر سونا اجھر نے دریافت کیا کہ واقعہ کے وقت حُکام اور وائس چانسلر کہاں تھے ۔ اس پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ کل رات جے این یو میں پرتشدد واقعات کے بعد 34 افراد کو ایمس کے ٹراما سنٹر میں شریک کیا گیا جنھیں پیر کی صبح ڈسچارج کردیا گیا ۔ 34 کے منجملہ چار طلباء و فیکلٹی ممبرس کے سر پر معمولی زخم آئے جبکہ دیگر کو گہرے زخم آئے اور چند کو فریکچرس کی بھی اطلاع ہے ۔ یونیورسٹی میں تشدد کے واقعات کے سلسلہ میں دہلی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعہ کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ۔ کل کے واقعہ کے بعد جے این یو میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ کیمپس میں صرف شناختی کارڈ رکھنے والے طلباء کو داخلہ کی اجازت دی جارہی ہے ۔ میڈیا اور بیرونی افراد کو داخلہ کی اجازت نہیں ہے ۔ یونین کی صدر آشی گھوش کو ڈسچارج کرنے کی اطلاع ہے ۔