جے پور کی قدیم درگاہ پر تنازعہ، بی جے پی اور کانگریسارکان اسمبلی آمنے سامنے، پولیس کی مداخلت

,

   

جے پور۔ 8 فبروری (ایجنسیز) راجستھان کے جے پور میں واقع تقریباً سو سال قدیم ایک درگاہ پر چھت کی تعمیر کو لیکر اتوار کے روز فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی، جب بی جے پی کے رکن اسمبلی بالمکنداچاریہ نے کانگریس ایم ایل اے امین قاضی کی جانب سے منظور کردہ تعمیراتی کام کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے روکنے کا مطالبہ کیا۔اطلاعات کے مطابق امین قاضی نے چند پول گیٹ سبزی منڈی میں واقع درگاہ کی چھت کی تعمیر کیلئے اپنے ایم ایل اے فنڈ سے 20 لاکھ روپے منظور کیے تھے۔ اتوار کی دوپہر جیسے ہی تعمیراتی کام شروع ہوا، بالمکنداچاریہ موقع پر پہنچ گئے اور اسے تجاوزات قرار دے کر کام رکوانے کی کوشش کی، جس پر درگاہ انتظامیہ اور قاضی کے حامیوں نے سخت احتجاج کیا۔دونوں گروپوں کے درمیان نعرے بازی شروع ہوگئی، جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر نہ ہو۔
اطلاع ملنے پر مقامی ایم ایل اے امین قاضی بھی موقع پر پہنچ گئے اور بی جے پی ایم ایل اے پر جے پور کا امن خراب کرنے کا الزام عائد کیا۔امین قاضی نے کہا کہ یہ درگاہ علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے اور تعمیر کا باقاعدہ ورک آرڈر 30 جنوری کو جاری کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلاوجہ تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ قاضی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اسی علاقے میں واقع قدیم گنیش مندر کی تزئین و آرائش کیلئے بھی اپنے فنڈز استعمال کیے ہیں۔ڈی سی پی کرن شرما نے بتایا کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، دونوں فریق منتشر ہو چکے ہیں اور تعمیراتی اجازت نامے کی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔