دہشت گردی کیلئے مالیہ کی فراہمی کا الزام، 15 ہزار روپئے جرمانہ عائد
لاہور ۔ 12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو منی لانڈرنگ یعنی دہشت گردی کیلئے مالیہ کی فراہمی کے الزامات کے تحت پانچ سال چھ ماہ جیل کی سزاء سنائی ہے۔ حافظ سعید کے خلاف گذشتہ سال جولائی میں دہشت گردوں کو مالیہ کی فراہمی کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ گجرانوالا میں محکمہ انسداد دہشت گردی میں حافظ سعید اور اس کے حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ حافظ سعید کے علاوہ عبدالغفار، حافظ مسعود، امیرحمزہ اور ملک ظفر اقبال پر ڈسمبر 2019ء میں فردجرم عائد کیا گیا تھا۔ اس طرح عدالت نے منی لانڈرنگ کے دو مقدمات میں حافظ سعید کو جملہ 11 سال جیل کی سزاء سنائی ہے۔ حافظ سعید پر 2008ء ممبئی دہشت گرد حملہ کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکہ نے حافظ سعید پر انعام بھی رکھا تھا۔ حافظ سعید کو 17 جولائی 2019ء کو دہشت گردی کیلئے مالیہ کی فراہمی کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ سخت سیکوریٹی میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہے۔ عدالت کے عہدیدار نے بتایا کہ حافظ سعید کو لاہور اور گجرانوالا شہروں میں درج کئے گئے دو مقدمات میں سزاء سنائی گئی ہے۔ عدالت نے ایک مقدمہ میں ساڑھے پانچ سال کی سزاء سنائی ہے اور ہر مقدمہ میں 15 ہزار روپئے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ دونوں مقدمات کی سزاء پر ساتھ ساتھ یعنی متوازی عمل ہوگا۔ گذشتہ ہفتہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹا نے حافظ سعید کے خلاف فیصلہ کو 11 فبروری تک ملتوی کردیا تھا۔ استغاثہ نے عدالت میں حافظ سعید کے خلاف 20 سے زائد گواہ پیش کئے تھے۔ حافظ سعید نے دونوں مقدمات میں اپنے قصوروار نہ ہونے کا استدلال پیش کیا۔ محکمہ مخالف دہشت گردی نے صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کیلئے مالیہ کی فراہمی کے الزامات کے تحت حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف 23 ایف آئی آر درج کئے تھے۔ ٹرسٹ اور غیرمنافع بخش تنظیموںبشمول انفال ٹرسٹ، دعوۃ الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ کے نام پر لاہور، گجرانوالا اور ملتان شہروں میں فنڈز جمع کئے گئے تھے۔
