حالیہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مایوس کن ، نظر ثانی کی ضرورت

   

صدر مجلس علماء دکن کا متفقہ فیصلہ
حیدرآباد ۔ 13 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے تناظر میں صدر مجلس علماء دکن کا ایک خصوصی اجلاس آج 11 بجے دن خانقاہ کامل مرکزی آستانہ شطاریہ میں زیر صدارت مولانا جسٹس سید شاہ محمد قادری سابق جج سپریم کورٹ و معزز رکن صدر مجلس علماء دکن منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری الشطاری معتمد صدر مجلس علماء دکن ، مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری ، مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، مولانا مفتی خلیل احمد ، مولانا سید کاظم پاشاہ قادری الموسوی ، مولانا سید حسن ابراہیم حسینی سجاد پاشاہ قادری ، مولانا سید محمود بادشاہ قادری زرین کلاہ ، مولانا سید حامد محمد افتخار پاشاہ قادری ، مولانا سید اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ قادری اور مولانا ڈاکٹر سید محمود صفی اللہ حسینی وقار پاشاہ قادری معزز اراکین نے شرکت کی ۔ بعد غور و خوص طئے پایا کہ ’ بابری مسجد کا قضیہ اراضی کے تعلق سے سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ مایوس کن ہے ۔ اور اس پر ہم عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ قابل تعمیل ہوتا ہے تاہم اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عدالت کے فیصلوں کی نظر ثانی بھی ہوسکتی ہے ۔ اس بات سے سب واقف ہیں کہ بابری مسجد میں 1949 ء میں مورتیاں بٹھائی گئیں جب کہ 1528 ء میں میر باقی نے بابری مسجد تعمیر کروائی ۔ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا جس کو حالیہ فیصلہ میں بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ۔ قبل ازیں یہ ثابت ہوچکا کہ ایک حصہ پر بابری مسجد ہے اور دوسرے حصہ پرمسلم قبرستان ہے ۔ بعد میں اس میں الجھاوے آگئے اور یہ کہ مسجد کے متبادل کے طور پر کسی دوسری جگہ زمین کا لینا شرعاً ہمارے لیے جائز نہیں ۔ ایک بار کہیں مسجد بن جائے تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے چاہے اس میں نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے ۔ صدر مجلس علماء دکن کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مسجد کا کوئی معاوضہ شرعاً جائز نہیں اور حالیہ فیصلہ پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے ۔ نظر ثانی کیلئے اس معاملہ کو ہم کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ پر چھوڑتے ہیں ‘ ۔ صدر مجلس علماء دکن کی عامتہ المسلمین سے اپیل ہے کہ وہ صبر و تحمل کے ساتھ امن و سلامتی سے زندگی گذاریں اور اسلام کی کامیابی اور سربلندی ، مسلمانوں کی فلاح و کامرانی کی دعائیں کرتے رہیں تاکہ ملک میں ہم آہنگی برقرار رہے ۔۔