حاملہ خاتون نے 65 کیلو میٹر پیدل سفر کیا…!

   

حیدرآباد۔/15 مئی، ( سیاست نیوز) انسانی ہمدردی کی یوں تو کئی مثالیں اخبارات اور سوشیل میڈیا کی زینت بنتی ہیں لیکن بسااوقات کچھ ایسے واقعات بھی منظر عام پر آتے ہیں جو سماج کے لئے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ آندھرا پردیش کے تروپتی میں ایک حاملہ خاتون اور اس کے شوہر کو علاج کیلئے 65 کیلو میٹر تک پیدل سفر کرنا پڑا اور کسی نے ہمدردی نہیں کی۔ حد تو یہ ہوگئی کہ راستہ میں بس اسٹانڈ پر جب خاتون کی طبیعت بگڑ گئی تب بھی گذرنے والی کسی کار والے نے اپنی گاڑی کو روکنا گوارا نہیں کیا۔ ایک نوجوان کی ہمدردی کے سبب 108 گاڑی طلب کی گئی تاہم ہاسپٹل منتقلی سے قبل ہی گاڑی میں خاتون کی ڈیلیوری ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ مشرقی گوداوری ضلع سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا تروپتی میں محنت مزدوری کیلئے منتقل ہوگیا۔ تروپتی سے نائیڈو پیٹ تک 65 کیلو میٹر کا فاصلہ دو دن میں طئے کیا کیونکہ انہیں سواری کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ دن رات سفر کرتے ہوئے وہ کسی طرح نائیڈو پیٹ بس اسٹانڈ پہنچے۔ ایک نوجوان نے جب اس جوڑے کی بری حالت کو دیکھا تو فوری 108 گاڑی کو طلب کیا۔ پولیس نے اس جوڑے کی تفصیلات حاصل کرتے ہوئے مدد کا تیقن دیا۔ متاثرہ جوڑے نے جب اپنی بپتا سنائی تو ہاسپٹل کے حکام خود بھی حیرت میں پڑ گئے کیونکہ اس غریب جوڑے کی مدد کیلئے آگے نہیں آیا۔ انہوں نے اس تلخ تجربہ سے ہونے والی اذیت سے بچنے کیلئے پیدل سفر کا فیصلہ کیا۔ر