حاملہ خواتین سے بچہ میں کورونا وائرس منتقل نہ ہونے کے برابر

   

تحقیق سے حیرت انگیز انکشاف، اسرائیلی محققین کا بیان

حیدرآباد: حاملہ خواتین سے بچہ میں کورونا وائرس کے منتقل ہونے کے واقعات نہ کے برابر ہیں اسی لئے یہ کہا جا رہاہے کہ حا ملہ خواتین کورونا وائرس کا شکار ہونے کی صورت میں ان کے بچہ پر اس کے کوئی منفی اثرات نہیں ہوں گے اور نہ ہی وائرس بچہ کو متاثر کرے گا۔ اسرائیلی محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ دنیا بھر میں گذشتہ ایک برس کے دوران حاملہ خواتین جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں ان میں وائرس کے سبب پیدا ہونے والی تبدیلیوں اور وائرس کے بچوں پر اثرات کا جائزہ لیا گیا لیکن اس تحقیق کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ حاملہ خواتین میں پائے جانے والے وائرس کے اثرات ان کے پیٹ میں موجود بچہ تک رسائی حاصل نہیں کر پائے ہیں لیکن بعض معاملات میں حاملہ خواتین نے بچہ کی پیدائش کے فوری بعد بچوں کو متاثر کیا ہے تاہم اس کے متعلق بھی محققین کا کہنا ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد ہی متاثر ہوا ہے جبکہ دوران حمل بچہ پر وائرس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔اسرائیلی ادارہ سے تعلق رکھنے والے محققین نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے طریقہ پر مباحث جاری ہیں لیکن حاملہ خواتین کے ذریعہ بچوں پر اثر نہ ہونا حیران کن ہے کیونکہ دوران حمل جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات بچوں پر محسوس کئے جاتے ہیں لیکن کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کے معاملہ میں ایسا نہیں ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حاملہ خواتین سے ان کے بچوں کو کورونا وائرس کی وباء سے متاثر ہونے کا فیصد مجموعی حاملہ خواتین کے فیصد میں 0.01 بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے اسی لئے اس مسئلہ پر تحقیق کا سلسلہ جاری ہے او رکہا جا رہاہے کہ آئندہ دنوں کے دوران یہ تحقیق کورونا وائرس کے علاج میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔حاملہ خواتین سے بچوں میں کورونا وائرس کی وباء منتقل نہ ہونے کی توثیق کے بعد سائنسدانوں کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ شکم مادر میں بچہ اس وبائی مرضـ سے کس طرح مکمل طور پر محفوظ رہنے لگا ہے اور بعد پیدائش کورونا وائرس سے نوزائیدہ بچوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہے اور ان کی توثیق بھی ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی توثیق ہوئی کہ ان بچوں کو پیدائش کے بعد ہی وائرس نے اپنا شکار بنایا ہے۔