حیدرآباد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔10۔فروری۔شہر حیدرآباد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال اور گنگاجمنی تہذیب کا مرکز ہے اور اس شہر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متعدد مرتبہ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی اور 2014 کے بعدسے ملک کے مختلف شہروں میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے اور فرقہ واریت کا زہر پھیلانے کے لئے جس انداز میں نوجوانوں کے ذہنوں کو آلودہ کیا جا رہاہے ایسے دور میں آج بھی ایسے افراد موجود ہیں جن کی موجودگی ہی ’حیدرآباد کے ہندو مسلم بھائی چارہ کا پیغام دیتی ہے‘حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ کو جسے فرقہ وارانہ طور پر حساس قرار دیا جاتا ہے اس علاقہ میں موجود ’ہوٹل نایاب ‘ میں صبح کی اولین ساعتوں کے دوران لی گئی جناب حبیب خان اور جناب امرناتھ کی یہ تصویر نہ صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ شہریوں کے درمیان منافرت محض سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے پیدا کی جاتی ہے بلکہ جو یہ سمجھ لیتے ہیں وہ اپنی دوستی پر اس کے اثرات ہونے نہیں دیتے ۔ملک کے موجودہ پرآشوب ماحول میں جناب حبیب خان اور امرناتھ کی دوستی ایک مثالی دوستی ہے کیونکہ جس وقت یہ تصویر لی گئی اسی دوران چائے نوشی کے فوری بعد جناب حبیب خان ہوٹل سے باہر نکل گئے اورہم جب جناب امرناتھ سے گفتگو کررہے تھے اور ان کے ساتھ جناب حبیب خان نظر نہیں آئے تو ہوٹل کے عملہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملازم نے امرناتھ سے دریافت کیا کہ ’کیا صاحب آج اکیلے نظر آرہے ہیں‘اس کے جواب میں امرناتھ نے حبیب خان کی سمت اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تنہاء نہیں ہیں۔ امرناتھ نے بتایا کہ گذشتہ 40 برسوں سے ان کا اور حبیب خان کا معمول ہے کہ وہ پوجا پاٹ کے بعد اور جناب حبیب خان نماز فجر کی ادائیگی کے بعد ’ہوٹل نایاب ‘ پہنچ کر چائے نوشی کرتے ہیں اور اس کے بعد دونوں اپنے کام کیلئے نکل پڑتے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں موجود ہیں جو کہ نوجوان نسل کیلئے مثال ثابت ہوسکتی ہیں اور یہ مثالیں ہی ملک کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ’فرقہ واریت‘ کا ان سیاستدانوں کیلئے جواب ہیں جو کہ مذہبی منافرت کے ذریعہ عوام کا استحصال کررہے ہیں۔ان دونوں کی ملاقات شاعرمشرق حکیم الامت علامہ اقبال کے ’ترانۂ ہندی‘ کے مصرعہ ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بئیر رکھنا ‘ کی جیتی جاگتی مثال ہے۔