دلت ۔مسلم بھائی بھائی کا نعرہ دینے والے مندا کرشنا مادیگا کا اہم رول
حیدرآباد ۔ /27 جون (سیاست نیوز) حبیب نگر علاقہ کے ساکن ایک لاپتہ نوجوان کی خودکشی کو قتل قراردینے کی ناکام کوششوں کے بعد آج بے قصور مسلم نوجوانوں پر شرپسند عناصر نے اقدام قتل اور دیگر سخت دفعات کے تحت مقدمات میں ماخوذ کروایا ۔ مسلم دلت بھائی بھائی کا نعرہ دینے اور یکجہتی کی وکالت کرنے والے مادیگا ریزرویشن پوراٹا سمیتی کے سربراہ مندا کرشنا مادیگا نے مبینہ طور پر محبوب باغ حبیب نگر کے ساکن فیروز ‘ ارباز ‘ کریم اور دیگر مسلم نوجوانوں پر مقدمہ درج کروانے میں اہم رول ادا کیا ۔ واضح رہے کہ کل حسین ساگر جھیل سے محبوب باغ کے ساکن ڈی برجو کی نعش دستیاب ہوئی تھی اور رام گوپال پیٹ پولیس نے خودکشی کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تھا جبکہ برجو کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے فیروز اور اس کے ساتھیوں پر قتل کا الزام عائد کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ برجو نے فیروز کے مکان میں گھس کر مبینہ اس کی بہن سے دست درازی کی تھی جس پر برجو کے ہی رشتہ دار اور دیگر افراد نے اس کی حرکت کی سرزنش کی تھی اور دلبرداشتہ ہوکر اس نے ٹینک بینڈ میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی تھی لیکن اس خودکشی کو قتل کا رنگ دینے کی مسلسل کوشش کی جارہی تھی اور حلقہ گوشہ محل کے ایم ایل اے راجہ سنگھ بھی متوفی کے رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے پہونچے تھے جس کے بعد کل رات وہاں حالات کشیدہ ہوگئے تھے ۔ حالانکہ حبیب نگر پولیس نے محبوب باغ کے اطراف علاقوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کی اور پتہ لگایا تھا کہ برجو اپنے مکان سے تنہا خودکشی کیلئے گیا لیکن اسے قتل قرار دینے کی کوشش کی گئی ۔ بالآخر مندا کرشنا مادیگا کی نمائندگی اور متوفی نوجوان کے رشتہ داروں کی شکایت پر فیروز اور اسکے ساتھیوں پر حبیب نگر پولیس نے اقدام قتل اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ شکایت میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ برجو کو اس کے مکان میں ہی فیروز اور اس کے ساتھیوں نے شدید زدوکوب کیا اور دھمکایا جس کے نتیجہ میں اس نے خودکشی کرلی ۔ جمعرات کی دوپہر میں بھی محبوب باغ میں کشیدگی تھی چونکہ متوفی برجو کی نعش کو گاندھی ہاسپٹل میں پوسٹ مارٹم کے بعد آخری رسومات کیلئے اس کے مکان لایا گیا تھا ۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس گوشہ محل نریندر ریڈی اس کیس کے تحقیقاتی عہدیدار مقرر کئے گئے ہیں ۔
