نئی دہلی ،28 جنوری (فیروز بخت احمد) ایک فٹبال کے شیدائی کی حیثیت سے میں نے 1980 میں دہلی کے کارپوریشن اسٹیڈیم (جو اب امبیڈکر اسٹیڈیم کہلاتا ہے) میں ڈی سی ایم فٹبال کپ کے فائنل میں جنوبی کوریا کے بینک آف سیئول کے خلاف محمدن اسپورٹنگ ایف سی کی جانب سے محمد حبیب کا شاندار اور جادوئی گول اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پنالٹی باکس میں شائقینکے ہجوم کے درمیان، انہوں نے کمرکو خم دے کر اور تین مدافعین کو چکمہ دیتے ہوئے گول کیپر کے بائیں جانب بائیں پاؤں سے زور دار شاٹ لگا کرگیند کو جال میں پہنچا دیا۔ بیس ہزار سے زائد تماشائیوں نے اس تاریخی فتح کا بھرپور جشن منایا، جو آج تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ فٹبال ٹیم سابقکے کپتان بائیچنگ بھوٹیا، آنکھوں میں آنسو لیے، نے کہا میرا آئیڈیل اور فٹبال کا جادوگر ہم سے رخصت ہوگئے۔ محمد حبیب، جو1960، 1970 اور 1980 کی ابتدائی دہائیوں کے بہترین پلے میکر تھے اور جنہوں نے موہن بگان کی نمائندگی کرتے ہوئے پلے کی نیویارک کاسموس کے خلاف گول کیا، فٹبال کی دنیا میں اپنی ذہانت، چالاکی اور فنی مہارت کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کے گول اکثرگول کیپر کے لیے حیران کن اور مدافعین کے لیے الجھن کا سبب بنتے تھے۔ آندھرا کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے 1965 میں بنگال کے خلاف سنتوش ٹرافی جیتی، جو ان دنوں ایک نہایت مضبوط ٹیم سمجھی جاتی تھی۔ بعد ازاں 1969کی سنتوش ٹرافی میں انہوں نے سروسزکے خلاف بنگال کی 6-1کی فتح میں پانچ گول اسکورکیے، جو آج تک ایک ناقابلِ شکست ریکارڈ ہے۔