حجاب تنازعہ کی وجہ سے کرناٹک میں تمام اسکول اور کالج تین دن تک بند رہیں گے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ بسواراج بومئی نے ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی ہے۔ سی ایم نے ٹویٹ کیاہے کہ امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے تمام ہائی اسکولوں اور کالجوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ حجاب پر پابندی پر سوال اٹھاتے ہوئے اڈپی کے ایک سرکاری کالج کی پانچ خواتین نے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ ہائی کورٹ میں آج اس معاملے کی سماعت ہوئی، بدھ کو بھی سماعت جاری رہے گی۔عدالت نے طلبہ اور لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ جسٹس کرشنا شری پد نے کہاہے کہ اس عدالت کو عوام کی دانشمندی پر پورا بھروسہ ہے اور امید ہے کہ اس کا خیال رکھا جائے گا۔کرناٹک کے کالجوں میں حجاب کے تنازع کی وجہ سے ہندو مسلم طلبہ آمنے سامنے ہیں۔ مظاہرین کے گروپوں کے درمیان ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا۔ حجاب بمقابلہ زعفران کے بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان ایک کالج میں طالبات نے ترنگے کے بجائے بھگوا جھنڈا لگا دیا، دوسری طرف اس تنازعہ کے درمیان کالج کی مسلم طالبات نے سوال اٹھایا ہے کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے تحت، کیا یہ ہے؟ انھوں نے کہاہے کہ وہ بیٹی بچاؤ بیٹی بچاؤ کی بات کرتے ہیں، کیا وہ (ہندو) اکلوتی بیٹی ہیں؟ کیا ہم بیٹیاں نہیں ہیں؟ ہم ملک کی بیٹیاں ہیں۔ آخر حکومت کو اچانک حجاب کا مسئلہ کیوں پیش آیا؟ میں اسے تین سال سے پہن رہی ہوں، اب یہ مسئلہ کیوں ہے؟