مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش، متحدہ طور پر مقابلہ کی ضرورت
حیدرآباد۔/9 فروری، ( سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلم فورم نے کرناٹک میں حجاب کو موضوع بناکر سماج کو تقسیم کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔ فورم کے ذمہ داروں جناب رحیم الدین انصاری، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری، مولانا میر قطب الدین علی چشتی، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مفتی صادق محی الدین فہیم، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جناب ضیاء الدین نیر، جناب منیر الدین احمد مختار، مولانا مسعود حسین مجتہدی، مولانا سید تقی رضا عابدی اور دوسروں نے مشترکہ بیان میں کہاکہ ملک کے دستور کی دفعہ 25 کے تحت مذہبی شناخت، تہذیب اور تمدن، زبانی اور شخصی پہچان کی ضمانت دی گئی ہے۔ ملک میں تمام شہری اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ تعلیم اور دیگر شعبوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکیوں کو یونیفارم کے ساتھ حجاب کی اجازت حاصل تھی لیکن حالیہ عرصہ میں ایک ضلع کے کالج پرنسپل کی جانب سے حجاب پر پابندی عائدکی گئی۔ طالبات اپنے دستوری حق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ملک میں نفرت کا زہر پھیلانے والے ہندوتوا عناصر نے کرناٹک کی بی جے پی حکومت کی بالواسطہ تائید سے مسلم طالبات کے مطالبہ کے خلاف زعفرانی زہر پھیلادیا۔ کیرالا ہائی کورٹ نے 2016 میں حجاب کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا جس میں دستور کی دفعہ 25(1) کا حوالہ دیتے ہوئے حجاب کی تائید کی تھی۔ قائدین نے کہا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کا اعلان کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی لیکن بچوں میں نفرت کا زہر بونے والوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے۔ ملک کی یکجہتی اور کثرت میں وحدت کے اصول کو بچانے تمام شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے ۔ مسلم طبقہ کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش ہے کیونکہ ملک میں مسلم لڑکیوں میں خواندگی کا فیصد انتہائی کم ہے۔ فورم نے حجاب کے حق میں کرناٹک کی مسلم لڑکیوں کی جدوجہد اور جرأت کو خراج تحسین پیش کیا اور تمام طبقات بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ منظم ہوکر ملک میں نفرت کی فضاء کا ہر سطح پر مقابلہ کریں۔ر